❮
❯
حدیث نمبر: 10077
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، زَادَ فِي نُزُولِهِ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَكَانَ مُضْطَرَبُهُ فِي الْحِلِّ، وَكَانَ يُصَلِّي فِي الْحَرَمِ، وَزَادَ فِي قَوْلِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تَلُمْهُمْ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ دَخَلَهُمْ أَمْرٌ عَظِيمٌ مِمَّا رَأَوْكَ حَمَلَتْ عَلَى نَفْسِكَ فِي الصُّلْحِ، وَرَجْعَتِكَ وَلَمْ يُفْتَحْ عَلَيْكَ، فَاخْرُجْ يَا رَسُولَ اللهِ فَلَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ حَتَّى تَأْتِيَ هَدْيَكَ فَتَنْحَرَ وَتَحِلَّ، فَإِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْكَ فَعَلْتَ ذَلِكَ فَعَلُوا كَالَّذِي فَعَلْتَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهَا فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا حَتَّى أَتَى هَدْيَهُ فَنَحَرَ وَحَلَقَ، فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ قَامُوا فَفَعَلُوا فَنَحَرُوا وَحَلَقَ بَعْضٌ وَقَصَّرَ بَعْضٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ثَلَاثًا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَالْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ثَلَاثًا، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَلِلْمُقَصِّرِينَ، فَقَالَ: " وَلِلْمُقَصِّرِينَ " ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاجِعًا وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: لِمَ ظَاهَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ وَاحِدَةً؟ فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَمْ يَشُكُّوا ".
حافظ ثناء اللہ

مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے لمبی حدیث ذکر کی، اور حدیبیہ میں پڑاؤ کے ذکر میں یہ زائد بیان کیا: آپ ﷺ کا خیمہ حل میں تھا اور آپ حرم میں نماز پڑھتے تھے۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے قول میں یہ زائد بیان کیا کہ وہ فرماتی ہیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ان کو ملامت نہ کریں، کیوں کہ لوگوں پر ایک بہت بڑا معاملہ آن پڑا ہے، اس وجہ سے کہ انہوں نے دیکھا کہ آپ نے صلح میں (سخت شرائط) اپنے اوپر برداشت کیں اور آپ فتح کے بغیر واپس جا رہے ہیں۔ اے اللہ کے رسول! آپ نکلیں اور لوگوں میں سے کسی سے کلام نہ کریں یہاں تک کہ آپ اپنی قربانی کے پاس جائیں، قربانی ذبح کریں اور حلال ہو جائیں۔ جب لوگ آپ کو دیکھیں گے کہ آپ نے یہ کیا ہے تو وہ بھی ایسا ہی کریں گے جیسا آپ ﷺ نے کیا ہے، آپ ﷺ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے، کسی سے کلام نہ کیا یہاں تک کہ اپنی قربانی کے پاس جا کر قربانی ذبح کی اور اپنا سر منڈوایا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ کیا ہے تو وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی ایسا ہی کیا: قربانیاں کیں، اور بعض نے سر منڈوائے اور بعض نے بال کتروائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو معاف فرما۔“ تین مرتبہ فرمایا؛ کہا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اور بال کتروانے والے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو معاف فرما۔“ تین مرتبہ؛ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! اور بال کتروانے والے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور بال کتروانے والوں کو بھی۔“ پھر رسول اللہ ﷺ واپس پلٹے۔
(ب) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سر منڈانے والوں کے لیے تین مرتبہ دعا کی جبکہ بال کتروانے والوں کے لیے صرف ایک مرتبہ؟ فرماتے ہیں: اس لیے کہ انہوں نے شک نہیں کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10077
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1318»