السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
جماع أبواب الإحصار -- باب: من أحصر بعدو وهو محرم باب: 0احصار (حج یا عمرہ سے روکے جانے) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: جس شخص کو دشمن کی وجہ سے روکا جائے درآں حالیکہ وہ محرم ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يُصَدِّقُ حَدِيثُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ قَالَا: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ، وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي نُزُولِهِ أَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ فِي مَجِيءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَمَا قَاضَاهُ عَلَيْهِ حِينَ صَدُّوهُ، عَنِ الْبَيْتِ، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا " قَالَ: فَوَاللهِ مَا قَامَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا لَمْ يَقُمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ قَامَ فَدَخَلَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَذَكَرَ لَهَا مَا لَقِيَ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُحِبُّ ذَلِكَ؟ اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ كَلِمَةً حَتَّى تَنْحَرَ بُدْنَكَ وَتَدْعُوَ حَالِقَكَ فَيَحْلِقَكَ، فَقَامَ فَخَرَجَ فَلَمْ يُكَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ نَحَرَ هَدْيَهُ وَدَعَا حَالِقَهُ فَحَلَقَهُ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ قَامُوا فَنَحَرُوا، ⦗٣٥٣⦘ وَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَحْلِقُ لِبَعْضٍ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا غَمًّا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رحمہ اللہ، دونوں کی احادیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں، دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ساتھ حدیبیہ کے سال نکلے۔ جب آپ ﷺ ذوالحلیفہ آئے تو وہاں اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا اور شعار کیا (اونٹ کی کوہان کو داہنی طرف سے چیر دینا تاکہ ہدی کی علامت معلوم ہو) اور عمرہ کا احرام باندھا۔ (راوی نے) آپ ﷺ کے حدیبیہ کے آخری کنارے پر اترنے، پھر سہیل بن عمرو کے آنے اور اس فیصلے کا ذکر کیا جو آپ ﷺ سے طے ہوا جب انہوں نے آپ کو بیت اللہ سے روک دیا۔ جب آپ ﷺ صلح نامے سے فارغ ہوئے تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اٹھو، قربانی کرو، پھر سر منڈاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان میں سے کوئی شخص بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا، جب ان میں سے کوئی بھی نہ اٹھا تو آپ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی بات کا تذکرہ کیا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ یہ پسند فرماتے ہیں؟ آپ باہر تشریف لے جائیں، پھر ان میں سے کسی سے کوئی بات نہ کریں یہاں تک کہ اپنے قربانی کے اونٹ نحر کر دیں اور اپنے حجام کو بلائیں جو آپ کا سر مونڈ دے۔ تو آپ ﷺ اٹھے اور باہر نکلے، ان میں سے کسی سے کلام نہ کیا یہاں تک کہ آپ نے یہ کر لیا: اپنی قربانی ذبح کی اور اپنے حجام کو بلایا جس نے آپ کا سر مونڈا۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو وہ اٹھے اور انہوں نے قربانیاں کیں اور ایک دوسرے کے سر مونڈنے لگے، قریب تھا کہ غم کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو قتل کر دیتے۔