السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المحصر يذبح ويحل حيث أحصر باب: محصر (جسے روک دیا گیا ہو) وہیں قربانی کرے گا اور حلال ہو جائے گا جہاں اسے روکا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10078
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ دونوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی جن راتوں میں حجاج ابن زبیر کے پاس آئے۔ ان دونوں نے کہا کہ آپ اس سال حج نہ کریں، کیوں کہ ہمیں ڈر ہے کہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ نہ بن جائے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”ہم نبی ﷺ کے ساتھ عمرہ کی غرض سے نکلے تو مشرکین مکہ بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے تو رسول اللہ ﷺ نے قربانی ذبح کی اور اپنا سر منڈایا پھر واپس پلٹ آئے۔“