السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
جماع أبواب الإحصار -- باب: من أحصر بعدو وهو محرم باب: 0احصار (حج یا عمرہ سے روکے جانے) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: جس شخص کو دشمن کی وجہ سے روکا جائے درآں حالیکہ وہ محرم ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا، وَقَالَ: " إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَارَ حَتَّى ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَا أُرَاهُمَا إِلَّا وَاحِدًا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ "، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ، وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ: فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَعْنِي أَحْلَلْنَا كَمَا أَحْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رحمہ اللہ دونوں کی احادیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں، دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ساتھ حدیبیہ کے سال نکلے۔ جب آپ ﷺ ذوالحلیفہ آئے تو وہاں اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا اور شعار کیا (اونٹ کی کوہان کو داہنی طرف سے چیر دینا تاکہ ہدی کی علامت معلوم ہو) اور عمرہ کا احرام باندھا۔ آپ ﷺ حدیبیہ کے کنارے اترے تو سہیل بن عمرو آئے اور آپ ﷺ نے جو فیصلہ سنایا جب آپ کو بیت اللہ سے روک دیا گیا۔ جب آپ ﷺ صلح نامے سے فارغ ہوئے تو اپنے صحابہ سے فرمایا: ”اٹھو، قربانی کر کے سر منڈاؤ۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! کوئی شخص بھی نہ اٹھا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا، جب کوئی بھی نہ اٹھا تو آپ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور ان سے تذکرہ کیا جو لوگوں کی طرف سے تکلیف آئی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ اس کو پسند فرماتے ہیں کہ جائیں کسی سے کلام نہ کریں، اپنی قربانی کر کے سر منڈوا دیں؟ آپ نکلے، کسی سے کلام نہ کیا اور اپنی قربانی ذبح کر کے اپنے سر کو بھی منڈوایا۔ جب لوگوں نے دیکھا تو انہوں نے اپنی قربانیاں کیں اور ایک دوسرے کے سر مونڈنے لگے، قریب تھا کہ غم کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو قتل کر دیتے۔