السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
جماع أبواب الإحصار -- باب: من أحصر بعدو وهو محرم باب: 0احصار (حج یا عمرہ سے روکے جانے) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: جس شخص کو دشمن کی وجہ سے روکا جائے درآں حالیکہ وہ محرم ہو۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ}، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَلَمْ أَسْمَعْ مِمَّنْ حَفِظْتُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالتَّفْسِيرِ مُخَالِفًا فِي أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ بِالْحُدَيْبِيَةِ حِينَ أُحْصِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ الْمُشْرِكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَحَلَقَ، وَرَجَعَ حَلَالًا وَلَمْ يَصِلْ إِلَى الْبَيْتِ وَلَا أَصْحَابُهُ إِلَّا عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَحْدَهُ.اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ﴾ ”اور اللہ کے لیے حج اور عمرے کو پورا کرو، پھر اگر تم (راستے میں) روک لیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو (اسے ذبح کرو)، اور اپنے سر نہ منڈواؤ یہاں تک کہ قربانی اپنی جگہ پہنچ جائے، پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ روزے یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں فدیہ دے۔“ [سورة البقرة: 196]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو میں نے علم تفسیر کے ماہرین میں سے جن علمائے کرام سے (علم) محفوظ کیا ہے، ان میں سے کسی ایک کو بھی اس بات میں اختلاف کرتے ہوئے نہیں سنا کہ یہ آیت مقام حدیبیہ پر نازل ہوئی تھی جب نبی کریم ﷺ کو روک لیا گیا تھا اور مشرکین آپ ﷺ اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے، اور یہ کہ نبی کریم ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر ہی قربانی کی اور سر منڈوایا، اور آپ ﷺ حلال ہو کر واپس تشریف لے گئے اور آپ ﷺ بیت اللہ تک نہ پہنچ سکے، اور نہ ہی آپ ﷺ کے صحابہ کرام پہنچ سکے، سوائے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے جو اکیلے وہاں پہنچے تھے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، وَالْقُمَّلُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ لَهُ: " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ، قَالَ: وَهُمْ ⦗٣٥٢⦘ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ مِنْ دُخُولِ مَكَّةَ فَأَنْزَلَ اللهُ الْفِدْيَةَ، وَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ نُسُكُ شَاةٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ وَرْقَاءَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ.نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے دور میں عمرہ کی غرض سے نکلے اور فرمانے لگے: اگر میں بیت اللہ سے روک دیا گیا تو پھر ہم ویسے ہی کریں گے، جیسا ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عمرہ کا احرام باندھ کر نکلے اور چلے، یہاں تک کہ بیدا پہاڑی پر چڑھ گئے۔ پھر مڑ کر اپنے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ان دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک جیسا ہی ہے، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ عمرہ کو بھی واجب کر لیا ہے، پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیت اللہ میں آ کر طواف کیا، صفا و مروہ کی سعی کی، سات سات چکر کاٹے، اس سے زیادہ نہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان سے کفایت کر جائے گا اور قربانی کی۔
(ب) ابن بکیر کی روایت میں ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اس وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ہم بیت اللہ سے روک دیے گئے تو ویسا ہی کریں گے جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا، یعنی ہم حلال ہو جائیں گے جیسے ہم حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حلال ہو گئے تھے۔