السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: كراهية قتل النملة للمحرم، وغير المحرم وكذلك ما لا ضرر فيه مما لا يؤكل باب: محرم اور غیر محرم کے لیے چیونٹی مارنے کی کراہت کا بیان، اور اسی طرح ہر اس جانور کو مارنے کی ممانعت جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا اور اس سے کوئی تکلیف بھی نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10073
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ، ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَسَنُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبِي، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: " كَانَ يُكْرَهُ أَنْ يَقْتُلَ الرَّجُلُ مَا لَا يَضُرُّهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جوئیں ان کے سر سے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا یہ تجھے تکلیف دیتی ہیں؟“ کعب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”ہاں۔“ آپ ﷺ نے سر منڈانے کا حکم دے دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ حدیبیہ میں تھے، ان کے لیے وضاحت نہ کی گئی کہ اس کی وجہ سے وہ حلال ہو جائیں گے اور دخولِ مکہ کا بھی طمع تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فدیہ نازل کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ایک (فرق، سولہ رطل یا تین صاع) کھانے کا چھ مسکینوں کو دینے کا حکم فرمایا، یا تین دن کے روزے رکھنے یا ایک بکری قربانی کرنے کا۔