حدیث نمبر: 1005
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، أنا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ الْحَكَمُ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنَ ابْنِ ⦗٣٢٢⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى بِخُرَاسَانَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ، فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّا كُنَّا فِي سَرِيَّةٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ، ثُمَّ صَلَّيْتُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا "، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ لَمْ يُجَاوِزِ الْكُوعَ. وَرَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُرْهِبِيُّ إِلَّا أَنَّهُ شَكَّ فِي مَتْنِهِ وَاضْطَرَبَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

حکم کہتے ہیں: میں نے خراسان میں ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: ”میں جنبی ہوجاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟“ ان سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم نبی ﷺ کے زمانے میں ایک سریہ میں تھے۔ میں اور آپ جنبی ہوگئے، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا، پھر میں نے نماز پڑھی۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو یہ بات میں نے آپ ﷺ سے ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس طرح کافی تھا“، پھر اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا لیکن گٹوں سے آگے نہیں گزرے۔“
(ب) ذر بن عبداللہ راوی کو اس کے متن میں شک ہے، انہوں نے اسے مضطرب قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1005
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»