السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ذكر الروايات في كيفية التيمم عن عمار بن ياسر رضي الله عنه باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے تیمم کی کیفیت کے بارے میں مروی روایات کا ذکر
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ فِي سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا تُصَلِّ فَقَالَ: عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْتُ أَنَا وَأَنْتَ فَلَمْ نُصِبِ الْمَاءَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَأَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " يَا عَمَّارُ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا " وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، فَقَالَ سَلَمَةُ: لَا أَدْرِي بَلَغَ الذِّرَاعَيْنِ أَمْ لَا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: اتَّقِ اللهَ، فَقَالَ عَمَّارُ: إِنْ شِئْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِمَا جَعَلَ اللهُ لَكَ عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ أَنْ لَا أُحَدِّثَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: بَلْ نُوَلِّيكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ..ابن عبدالرحمن بن ابزیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں ایک سفر میں جنبی ہوگیا، مجھے پانی نہیں ملا، اس سے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نماز نہ پڑھ۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے، ہم جنبی ہوگئے، ہمیں پانی نہیں ملا، آپ نے نماز نہیں پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ہم نے یہ بات آپ ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمار! تجھے یہی کافی تھا کہ تو اس طرح کرتا“ اور اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک ماری، اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے کہا: میں نہیں جانتا، آپ ﷺ مکمل بازوؤں تک پہنچے ہیں یا نہیں۔ راوی کہتا ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ سے ڈر! عمار رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ نے آپ کو مجھ پر حق سے مقرر کیا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس حدیث کو بیان نہ کروں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ ہم تیرے اس معاملے کو تیرے ہی سپرد کرتے ہیں۔