حدیث نمبر: 1004
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمَدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمَا تَذْكُرُ، أَنَّا كُنَّا فِي سَفَرٍ فَأَجْنَبْتُ، أَنَا وَأَنْتَ فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فَصَلَّيْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا " فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفَّيْهِ الْأَرْضَ فَنَفَخَ فِيهِمَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ، وَالنَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ وَذَكَرَ سَمَاعَ الْحَكَمِ لِلْحَدِيثِ مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ نَفْسِهِ.
حافظ ثناء اللہ

سعید بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں جنبی ہو جاؤں اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں ہے کہ ہم ایک سفر میں تھے، میں اور آپ جنبی ہو گئے، آپ نے نماز ادا نہیں کی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نے نماز پڑھی، میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو یہ بات میں نے نبی ﷺ کو بتلائی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس طرح کرنا کافی تھا“، پھر نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، اس میں پھونک ماری پھر اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کا مسح کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1004
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 331»