حدیث نمبر: 1003
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَرَّسَ بِأَوْلَاتِ الْجَيْشِ، وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدُهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ ⦗٣٢١⦘ عِقْدِهَا ذَلِكَ، حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ، وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةَ رُخْصَةِ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطِّيبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْأَرْضَ، ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ، وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَا يَغْتَرُّ بِهَذَا النَّاسِ. وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، قَالَ لِعَائِشَةَ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَذَكَرَ ضَرْبَتَيْنِ كَمَا ذَكَرَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَيُونُسُ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فِي حَدِيثِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ هَذَا أَنَّ تَيَمُّمَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ مَنْسُوخٌ لِأَنَّ عَمَّارًا أَخْبَرَهُ بِأَنَّ هَذَا أَوْلُ تَيَمُّمٍ كَانَ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ فَكُلُّ تَيَمُّمٍ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ فَخَالَفَهُ فَهُوَ لَهُ نَاسِخٌ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اولات الجیش جگہ پر پڑاؤ ڈالا، آپ ﷺ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کا ظفار کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا۔
اس کی تلاش کے لیے لوگوں کو روک دیا گیا یہاں تک کہ فجر ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ پر پاک مٹی سے طہارت کی رخصت نازل کر دی۔ صحابہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور مٹی سے کوئی چیز نہیں لی، اپنے چہروں اور ہاتھوں کا کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں کے اندرونی حصے کا بغلوں تک۔ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگوں نے اس کا اعتبار نہیں کیا اور ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھے پتہ نہیں تھا کہ تو برکت (کا باعث) ہے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کندھوں تک مسح کا جو حکم دیا تھا وہ منسوخ ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سب سے پہلا تیمم تھا جب آیت تیمم نازل ہوئی۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے تمام تیمم اس کے مخالف ہیں اور وہ ناسخ ہیں۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ ہی فرماتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں چہرے اور ہتھیلیوں پر تیمم کرنے کا حکم دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1003
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 320»