السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من صيد البحر باب: سمندری شکار میں سے جن کا مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10030
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذٌ، ثنا الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَذْبَحَ الْمُحْرِمُ مَا لَوْ تُرِكَ لَمْ يِطِرْ، مِثْلَ الْبَطَّةِ وَالدَّجَاجَةِ وَيَكْرَهُ أَنْ يَذْبَحَ مَا لَوْ تُرِكَ طَارَ مِثْلَ الْحَمَامِ وَأَشْبَاهِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”چار چیزیں ساری کی ساری بری ہیں۔ حل و حرم میں ان کو قتل کیا جائے گا: (1) چیل (2) کوا (3) چوہیا (4) باولا کتا۔“
(ب) ہارون بن سعید وغیرہ ابن وہب سے نقل فرماتے ہیں اور انہوں نے زیادہ روایت کیا ہے کہ میں نے قاسم سے کہا: آپ کا سانپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہنے لگے: چھوٹے کو بھی قتل کیا جائے گا۔