السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من صيد البحر باب: سمندری شکار میں سے جن کا مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10030
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذٌ، ثنا الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَذْبَحَ الْمُحْرِمُ مَا لَوْ تُرِكَ لَمْ يِطِرْ، مِثْلَ الْبَطَّةِ وَالدَّجَاجَةِ وَيَكْرَهُ أَنْ يَذْبَحَ مَا لَوْ تُرِكَ طَارَ مِثْلَ الْحَمَامِ وَأَشْبَاهِهِ ".حافظ ثناء اللہ
اشعث، حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم ایسے پرندے کو ذبح کرے کہ اگر اس کو چھوڑا جائے تو اڑ نہ سکے جیسے بطخ اور مرغی، اور جو (چھوڑنے پر) اڑ جائے اس کو ذبح کرنا مکروہ سمجھتے تھے جیسے کبوتر وغیرہ۔