السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من صيد البحر باب: سمندری شکار میں سے جن کا مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10029
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ، عَنْ بِرْكَةِ الْقَسْرِيِّ، وَهِيَ بِرْكَةٌ عَظِيمَةٌ فِي الْحَرَمِ أَيُصَادُ؟، قَالَ: " نَعَمْ وَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْهَا الْآنَ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ سے برکہ قسری کے بارے میں سوال کیا گیا، جو حرم میں واقع ایک بہت بڑا تالاب ہے، کہ کیا اس میں شکار کیا جائے؟ فرمانے لگے: ہاں، اور میری خواہش ہے کہ اس کا کچھ (شکار) اب بھی ہمارے پاس ہوتا۔