حدیث نمبر: 10025
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّهُ جَعَلَ فِي كُلِّ بَيْضَتَيْنِ مِنْ بَيْضِ حَمَامِ الْحَرَمِ دِرْهَمًا " وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ مِنْ قَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ: أَرَى عَطَاءً أَرَادَ بِقَوْلِهِ هَذَا الْقِيمَةَ يَوْمَ قَالَهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا حسن رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے شتر مرغ کے انڈے توڑ ڈالے تو وہ اس کے بقدر اونٹنی ذبح کرے، اگر اونٹنی بھاگ جائے؟ انہوں نے فرمایا: ممکن ہے کوئی انڈا بھی ٹوٹا ہوا ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہ ہم اور نہ ہی اہل عراق اس قول کو قبول کرتے ہیں، ہم صرف اس کی قیمت ڈالتے ہیں اور جرمانے کے طور پر اس کی قیمت ادا کرے۔
شیخ فرماتے ہیں: معاویہ بن قرہ کی منقطع روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سائل کو واپس کیا اور فرمایا: ”ایک دن کا روزہ یا ایک مسکین کو کھانا کھلاؤ۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10025
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في الام 7/ 25»