❮
❯
حدیث نمبر: 10026
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ فِيمَنْ أَصَابَ بَيْضَ نَعَامٍ، قَالَ: " يَضْرِبُ بِقَدْرِهِنَّ نُوقًا "، قِيلَ لَهُ: فَإِنْ أَزْلَقَتْ مِنْهُنَّ نَاقَةٌ، قَالَ: " فَإِنَّ مِنَ الْبَيْضِ مَا يَكُونُ مَارِقًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَسْنَا وَلَا إِيَّاهُمْ يَعْنِي الْعِرَاقِيِّينَ وَلَا أَحَدٌ عَلِمْنَاهُ يَأْخُذُ بِهَذَا، نَقُولُ يَغْرَمُ ثَمَنَهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، رَوَوْا هَذَا عَنْ عَلِيٍّ مِنْ وَجْهٍ لَا يُثْبِتُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ مِثْلَهُ؛ وَلِذَلِكَ تَرَكْنَاهُ بِأَنَّ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يَخْرُجْ بِمُغَيَّبٍ يَكُونُ وَلَا يَكُونُ، وَإِنَّمَا يُجْزِيهِ بِقَائِمٍ، قَالَ الشَّيْخُ: لَيْسَ فِيمَا أُورِدُهُ سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ عَلِيٍّ، وَحَدِيثُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رَوَى فِيهِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ سَائِلَهُ إِلَى صِيَامِ يَوْمٍ أَوْ إِطْعَامِ مِسْكِينٍ.
حافظ ثناء اللہ

حسن رحمہ اللہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے شتر مرغ کے انڈے توڑ ڈالے کہ وہ انڈوں کی تعداد کے بقدر اونٹنیوں کو جفتی کرائے۔ ان سے کہا گیا: اگر ان میں سے کوئی اونٹنی بچہ گرا دے؟ تو انہوں نے فرمایا: انڈوں میں سے بھی کوئی خراب نکلتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہ ہم، نہ اہل عراق اور نہ ہی کوئی ایسا شخص جسے ہم جانتے ہوں اس قول کو اختیار کرتا ہے، ہم کہتے ہیں کہ وہ اس کی قیمت بطور تاوان ادا کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب المناسک میں فرمایا: انہوں نے یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی سند سے روایت کی ہے جس جیسی سند کو اہل علم بالحدیث ثابت نہیں مانتے، اسی لیے ہم نے اسے چھوڑ دیا، اور اس لیے کہ جس پر کوئی چیز واجب ہو وہ ایسی غائب چیز سے بری الذمہ نہیں ہوتا جو ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، بلکہ اسے موجود چیز ہی کافی ہوتی ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: جو میں نے ذکر کیا ہے اس میں حسن کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع (ثابت) نہیں ہے، اور معاویہ بن قرہ کی روایت منقطع ہے، اور اس میں یہ مروی ہے کہ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں پیش آیا اور نبی کریم ﷺ نے سائل کو ایک دن کے روزے یا ایک مسکین کو کھانا کھلانے کی طرف لوٹا دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10026
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»