السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في جزاء ما دون الحمام باب: کبوتر سے چھوٹے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10013
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ صَيْدِ الْجَرَادِ، فِي الْحَرَمِ، فَقَالَ: " لَا " وَنَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَمَا قُلْتَ لَهُ أَوْ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَإِنَّ قَوْمَكَ يَأْخُذُونَهُ وَهُمْ مُحْتَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: لَا يَعْلَمُونَ.حافظ ثناء اللہ
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حرم کے اندر ٹڈی کے شکار کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: نہیں، اور اس سے منع فرمایا۔ (عطاء) کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا، یا قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: آپ کی قوم کے لوگ تو مسجد میں گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے انہیں پکڑ لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ نہیں جانتے۔