السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في جزاء ما دون الحمام باب: کبوتر سے چھوٹے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10012
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ⦗٣٣٨⦘ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ جَرَادَةٍ، يَقْتُلُهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فِيهَا قَبْضَةٌ مِنْ طَعَامٍ وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ وَلَكِنْ وَلَوْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ: " وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ " أَيْ إِنَّمَا فِيهَا الْقِيمَةُ، وَقَوْلُهُ: " وَلَوْ "، يَقُولُ: تَحْتَاطُ فَتُخْرِجُ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَعْلَمْتُكَ أَنَّهُ أَكْثَرُ مِمَّا عَلَيْكَ.حافظ ثناء اللہ
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حرم کے اندر ٹڈی کے شکار کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: نہیں اور اس سے منع فرمایا، کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا یا قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ آپ کی قوم تو لیتے ہیں اور وہ مسجد میں گوٹھ مار کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ نہیں جانتے۔