السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في جزاء ما دون الحمام باب: کبوتر سے چھوٹے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ⦗٣٣٨⦘ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ جَرَادَةٍ، يَقْتُلُهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " فِيهَا قَبْضَةٌ مِنْ طَعَامٍ وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ وَلَكِنْ وَلَوْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ: " وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ " أَيْ إِنَّمَا فِيهَا الْقِيمَةُ، وَقَوْلُهُ: " وَلَوْ "، يَقُولُ: تَحْتَاطُ فَتُخْرِجُ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَعْلَمْتُكَ أَنَّهُ أَكْثَرُ مِمَّا عَلَيْكَ.قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے ان سے اس ٹڈی کے بارے میں سوال کیا جسے وہ احرام کی حالت میں قتل کر دے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس میں ایک مٹھی کھانا ہے، حالانکہ (اس کے بدلے) تم ضرور مٹھی بھر ٹڈیاں لے لو گے، لیکن پھر بھی (یہی دو)۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ» کا معنی یہ ہے کہ اس میں صرف قیمت ہے، اور «وَلَوْ» سے مراد یہ ہے: تم احتیاط کرو اور جو تمہارے ذمہ ہے اس سے زیادہ نکال دو، اس کے بعد کہ میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ اس سے زیادہ ہے جو تمہارے ذمہ ہے۔