السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في جزاء ما دون الحمام باب: کبوتر سے چھوٹے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10011
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَكَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي أُنَاسٍ مُحْرِمِينَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَكَعْبٌ عَلَى نَارٍ يَصْطَلِي مَرَّتْ بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَقَتَلَهُمَا وَنَسِيَ إِحْرَامَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَأَلْقَاهُمَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُمْ فَقَصَّ كَعْبٌ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ بِذَلِكَ لَعَلَّكَ يَا كَعْبُ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " إنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ؟ " قَالَ: دِرْهَمَيْنِ، قَالَ: " بَخٍ دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ، اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ ".حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک محرم آدمی نے جس نے ٹڈی کو قتل کر دیا تھا سوال کیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک مٹھی کھانے سے، البتہ تم ضرور ایک مٹھی ٹڈی سے پکڑنا لیکن وہ پھر گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ» کا معنی قیمت ہے، اور وہ فرماتے ہیں: احتیاط اسی میں ہے کہ جو آپ کے ذمہ ہے اس سے زیادہ نکال دیا جائے باوجود اس کے کہ میں جانتا ہوں جو میں نے آپ کو بتایا ہے وہ زیادہ ہے اس سے جو آپ کے ذمہ ہے۔