السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما ورد في جزاء ما دون الحمام باب: کبوتر سے چھوٹے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَكَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي أُنَاسٍ مُحْرِمِينَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَكَعْبٌ عَلَى نَارٍ يَصْطَلِي مَرَّتْ بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَقَتَلَهُمَا وَنَسِيَ إِحْرَامَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَأَلْقَاهُمَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُمْ فَقَصَّ كَعْبٌ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ بِذَلِكَ لَعَلَّكَ يَا كَعْبُ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " إنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ؟ " قَالَ: دِرْهَمَيْنِ، قَالَ: " بَخٍ دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ، اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ ".عبداللہ بن ابی عمار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور کعب احبار رحمہ اللہ کے ساتھ محرم آدمیوں کے ایک گروہ میں بیت المقدس سے عمرہ کی غرض سے آئے، ہم راستہ میں تھے اور کعب آگ تاپ رہے تھے کہ ٹڈیوں کا ایک غول ان کے پاس سے گزرا، انہوں نے دو ٹڈیاں پکڑ لیں اور ان کو قتل کر دیا اور اپنے محرم ہونے کو بھول گئے۔ پھر ان کو اپنا محرم ہونا یاد آیا تو ان کو ڈال دیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ کعب نے دو ٹڈیوں والا قصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ قصہ کس کے ساتھ پیش آیا؟ شاید اے کعب! آپ کے ساتھ؟ کہنے لگے: ہاں۔ فرمانے لگے: حمیر کے رہنے والے ٹڈی کو پسند کرتے ہیں، تم نے اپنے دل میں (اس کا فدیہ) کیا مقرر کیا ہے؟ کہنے لگے: دو درہم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واہ! دو درہم تو سو ٹڈیوں سے بھی بہتر ہیں، جو تم نے اپنے دل میں مقرر کیا ہے وہی ادا کر دو۔