السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من قال: يحل الصيد بالتحلل الأول، ومن قال: لا يحل باب: ان کا بیان جنہوں نے فرمایا: ”پہلے تحلل (حلال ہونے) سے شکار کرنا حلال ہو جاتا ہے“، اور جنہوں نے فرمایا: ”حلال نہیں ہوتا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ: " مَنْ أَصَابَ صَيْدًا وَقَدْ رَمَى الْجَمْرَةَ وَلَمْ يُفِضْ فَعَلَيْهِ جَزَاؤُهُ ".نافع بن عبدالحارث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مکہ آئے اور دار الندوہ میں داخل ہوئے، ان کا ارادہ تھا کہ مسجد کے قریب پڑاؤ کریں، انہوں نے اپنی چادر بیت اللہ کے پاس کھڑے ہوئے شخص پر ڈالی، اس پر ایک کبوتر آکر بیٹھ گیا، اس کو اڑایا گیا، پھر وہ بیٹھ گیا، اس کو سانپ نے کھینچ لیا اور اس کو قتل کر دیا، جب انہوں نے نماز پڑھی تو میں اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میرے بارے میں فیصلہ کرو، جو آج میں نے کیا ہے۔ میں اس گھر میں داخل ہوا اور میں نے ارادہ کیا تھا کہ مسجد کے قریب پڑاؤ کروں، میں نے اپنی چادر اس پر ڈال دی۔ اس پر کبوتر بیٹھ گیا۔ میں ڈر گیا کہ وہ اس کو اپنی بیٹ سے آلودہ کر دے گا، میں نے اسے اڑا دیا۔ وہ دوسرے ستون پر بیٹھ گیا تو سانپ نے ڈس کر اس کو قتل کر دیا، میں نے اپنے دل میں پایا کہ میں نے اس کو امن والی جگہ سے اڑایا اور وہ ایسی جگہ چلا گیا جہاں اس کو موت کے گھاٹ اترنا پڑا۔“ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم امیر المؤمنین کے بارے میں دو دانت والی بکری کے بچے کا فیصلہ کر دیں؟“