❮
❯
915/1199(صحيح) عن أبي هريرة قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أصبح قال: " اللهم بك أصبحنا، وبك أمسينا، وبك نحيا، وبك نموت، وإليك النشور". وإذا أمسى قال: " اللهم بك أمسينا، وبك أصبحنا، وبك نحيا، وبك نموت، وإليك المصير".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أصبحنا، وبك أمسينا، وبك نحيا، وبك نموت، وإليك النشور» ”اے اللہ! تیرے ہی (حکم) سے ہم نے صبح کی، اور تیرے ہی (حکم) سے ہم نے شام کی، تیرے ہی (حکم) سے ہم جیتے ہیں اور تیرے ہی (حکم) سے ہم مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف (مر کر) اٹھ کر جانا ہے ۔“ اور جب شام کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أمسينا، وبك أصبحنا، وبك نحيا، وبك نموت، وإليك المصير» ”اے اللہ! تیرے ہی (حکم) سے ہم نے شام کی، اور تیرے ہی (حکم) سے ہم نے صبح کی، تیرے ہی (حکم) سے ہم جیتے ہیں اور تیرے ہی (حکم) سے ہم مرتے ہیں، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 915
916/1200 (صحيح) عن ابن عمر قال: لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يدع هؤلاء الكلمات إذا أصبح وإذا أمسى: "اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة. اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي، وأهلي ومالي. اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي. اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي، وعن يميني وعن شمالي، ومن فوقي، وأعوذ بعظمتك من أن أغتال من تحتي".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام ان کلمات کو نہیں چھوڑتے تھے: «اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة. اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي، وأهلي ومالي. اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي. اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي، وعن يميني وعن شمالي، ومن فوقي، وأعوذ بعظمتك من أن أغتال من تحتي» ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے گھر والوں اور اپنے مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! میرے عیبوں پر پردہ ڈال دے اور میرے خوف کو امن میں بدل دے۔ اے اللہ! میرے آگے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے میری حفاظت فرما، اور میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے نیچے سے اچانک ہلاک کیا جاؤں ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 916