❮
❯
842/1102 (صحيح) عن أبي بصرة الغفاري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إني راكب غداً إلى يهود، فلا تبدأوهم بالسلام؛ فإذا سلموا عليكم. فقولوا: وعليكم"(1).
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں کل سوار ہو کر یہودیوں کی طرف جانے والا ہوں، تو تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرنا، پھر جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم کہنا: وعلیکم (اور تم پر بھی) ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 842
843/1103 (صحيح) عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " إذا لقيتم/111] أهل الكتاب (وفي رواية: المشركين فـ) لا تبدأوهم بالسلام(2)، واضطروهم إلى أضيق الطريق".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم اہل کتاب سے ملو (اور ایک روایت میں ہے: مشرکین سے ملو) تو انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور انہیں راستے کے تنگ ترین حصے کی طرف جانے پر مجبور کرو ۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 843