692/897 عن أبي هريرة؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن أوليائي يوم القيامة المتقون، وإن كان نسب أقرب من نسب، فلا يأتيني الناس بالأعمال، وتأتون بالدنيا تحملونها على رقابكم، فتقولون: يا محمد! فأقول هكذا وهكذا: لا" وأعرض في كلا عطفيه.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن میرے دوست متقی لوگ ہوں گے، اگرچہ ایک نسب دوسرے نسب سے زیادہ قریب ہو۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ (میرے پاس) اعمال لے کر آئیں اور تم دنیا کو اپنی گردنوں پر اٹھائے ہوئے آؤ اور کہو: اے محمد! تو میں اس طرح اور اس طرح کہوں گا: نہیں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہلوؤں کی طرف منہ پھیر کر (اعراض کر کے) دکھایا۔
693/898 عن ابن عباس قال: " لا أرى أحداً يعمل بهذه الآية: ? يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى? حتى بلغ: ? إن أكرمكم عند الله أتقاكم ? [الحجرات: 13]. فيقول الرجل للرجل: أنا أكرم منك! فليس أحدٌ أكرم من أحدٍ إلا بتقوى الله ".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں کسی کو اس آیت پر عمل کرتے نہیں دیکھتا: «يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى» (اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا) یہاں تک کہ وہ یہاں تک پہنچے: «إن أكرمكم عند الله أتقاكم» (بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے) [الحجرات: 13]۔ (پھر بھی) آدمی دوسرے آدمی سے کہتا ہے: میں تجھ سے زیادہ معزز ہوں! حالانکہ کوئی بھی کسی سے زیادہ معزز نہیں مگر اللہ کے تقویٰ کی بنا پر۔“
694/899- عن ابن عباس: " ما تعدون الكرم؟ وقد بين الله الكرم، فأكرمكم عند الله أتقاكم، ما تعدون الحسب؟ أفضلكم حسباً أحسنكم خلقاً".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم کرم (عزت و شرافت) کس چیز کو سمجھتے ہو؟ حالانکہ اللہ نے کرم کو واضح کر دیا ہے کہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ اور تم حسب (خاندانی شرف) کس چیز کو سمجھتے ہو؟ تم میں حسب کے لحاظ سے سب سے افضل وہ ہے جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھا ہے۔“