❮
❯
650/842 (صحيح) عن جابر قال: ولد لرجل منا غلام، فسماه القاسم، فقالت الأنصار: لا نكنيك أبا القاسم، ولا ننعمك عيناً، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له ما قالت [الأنصار]. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " أحسنت الأنصار؛ تسمّوا باسمي، ولا تكتنّوا بكنيتي؛ فإنما أنا قاسم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک آدمی کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام قاسم رکھا۔ انصار نے کہا: ہم تمہیں ابوالقاسم کی کنیت سے نہیں پکاریں گے اور نہ ہی تمہاری آنکھ ٹھنڈی کریں گے۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے وہ بات ذکر کی جو انصار نے کہی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار نے اچھا کیا، میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں تو قاسم (تقسیم کرنے والا) ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 650
تخریج حدیث (صحيح)
651/843 (صحيح) عن ابن الحنفية قال: كانت رخصة لعلي، قال: يا رسول الله! إن ولد لي بعدك أسميه باسمك، وأكنيه بكنيتك؟ قال: "نعم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابن حنفیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے ایک رخصت تھی، انہوں نے عرض کیا تھا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے ہاں (بیٹا) پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام آپ کے نام پر اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 651
تخریج حدیث (صحيح)
652/844 عن أبي هريرة، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نجمع بين اسمه وكنيته، وقال: "أنا أبو القاسم، والله يعطي، وأنا أقسم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ہم آپ کے نام اور آپ کی کنیت کو جمع کریں، اور فرمایا: ”میں ابوالقاسم ہوں، اللہ عطا کرتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 652
تخریج حدیث (حسن صحيح)