621/804-(صحيح) عن علي رضي الله عنه، قال: ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يفدي رجلاً بعد سعد، سمعته يقول: "ارمِ، فداك أبي وأمي".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے بعد کسی آدمی پر (اپنے ماں باپ) قربان کرتے نہیں دیکھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (انہیں) فرماتے سنا: ”تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ قربان۔“
622/805-(صحيح) عن بريده : خرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى المسجد- وأبو موسى يقرأ – فقال: "من هذا"؟ فقلت: أنا بريدة(1) جعلت فداك، قال: "قد أعطي هذا مزماراً من مزامير آل داود".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے اور سیدنا ابوموسیٰ (اشعری رضی اللہ عنہ) قرآن پڑھ رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں بریدہ ہوں، میں آپ پر قربان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آل داؤد کی خوش الحانیوں میں سے ایک خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔“