❮
❯
حدیث نمبر: 620
620/803- (صحيح) عن أبي ذر [قال]: فانطلق النبي صلى الله عليه وسلم نحو البقيع، وانطلقت أتلوه، فالتفت فرآني. فقال: "يا أبا ذر!". فقلت: لبيك يا رسول الله وسعديك، وأنا فداؤك، فقال: "إن المكثرين(1) هم المقلون(2) يوم القيامة، إلا من قال هكذا وهكذا في حق ". قلت : الله ورسوله أعلم. فقال: "هكذا " (ثلاثاً)، ثم عرض لنا أُحُد فقال: " يا أبا ذر!" فقلت: لبيك يا رسول الله وسعديك، وأنا فداؤك، قال: "ما يسرني أن أُحُداً لآل محمد ذهباً، فيمسي عندهم دينار- أوقال- مثقال". ثم عُرضَ لنا واد، فاستنتل(3) فظننت أن له حاجة، فجلست على شفيرٍ(4)، وأبطأ علي، قال: فخشيت عليه، ثم سمعته كأنه يناجي رجلاً، ثم خرج إلي وحده. فقلت: يا رسول الله! من الرجل الذي كنت تناجي؟ فقال: "أو سمعته؟" قلت: نعم. قال: "فإنه جبريل أتاني، فبشرني أنه من مات من أمتي لا يشرك بالله شيئاً دخل الجنة. قلتُ(5): وإن زنى وإن سرق؟ قال: نعم".
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کی طرف چلے اور میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ آپ نے مڑ کر مجھے دیکھا تو فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ وسعدیک، میں آپ پر قربان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک زیادہ مال والے ہی قیامت کے دن کم (ثواب) والے ہوں گے، سوائے اس کے جس نے حق کے راستے میں اس طرح اور اس طرح (خرچ) کیا۔“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے (ہاتھ سے اشارہ کر کے) تین مرتبہ فرمایا: ”اس طرح۔“ پھر ہمارے سامنے احد پہاڑ آیا تو آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ وسعدیک، میں آپ پر قربان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ احد پہاڑ آل محمد کے لیے سونا بن جائے اور شام تک ان کے پاس ایک دینار - یا فرمایا - ایک مثقال بھی باقی رہ جائے۔“ پھر ہمارے سامنے ایک وادی آئی تو آپ (ہم سے) الگ ہو کر آگے بڑھ گئے، میں نے سمجھا کہ آپ کو قضائے حاجت کی ضرورت ہے، چنانچہ میں ایک کنارے پر بیٹھ گیا۔ آپ نے مجھ سے دیر لگائی تو مجھے آپ کے بارے میں اندیشہ ہوا، پھر میں نے آپ کو سنا گویا آپ کسی آدمی سے سرگوشی کر رہے ہیں۔ پھر آپ اکیلے میری طرف نکل آئے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ آدمی کون تھا جس سے آپ سرگوشی کر رہے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے سنا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ جبریل تھے، میرے پاس آئے اور مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔ میں نے کہا: اگرچہ وہ زنا کرے اور اگرچہ وہ چوری کرے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔“

حوالہ حدیث صحيح الادب المفرد / حدیث: 620
تخریج حدیث (صحيح)