کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جہنم میں ایک وادی ہے جس میں "ہبہب" نامی ایک کنواں ہے
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني إملاء من أصل كتابه، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي أخبرنا يزيد بن هارون، حدثنا أزهرُ بن سنان القُرشي، حدثنا محمد بن واسع قال: دخلتُ على بلال بن أبي بُرْدة فقلت له: يا بلالُ، إِنَّ أباك حدَّثني عن جدِّك، عن رسولَ الله ﷺ: أنه قال: "إِنَّ في جهنَّم واديًا (4). في ذلك الوادي بئرٌ يقال له: هَبهَبُ، حَقٌّ على الله تعالى أن يُسكِنَها كُلَّ جبّار"، فإياكَ أن تكون منهم يا بلال (5).
هذا حديث تفرَّد به أزهر بن سنان عن محمد بن واسع، لم نكتُبْه عاليًا إلَّا من هذا الوجه.
هذا حديث تفرَّد به أزهر بن سنان عن محمد بن واسع، لم نكتُبْه عاليًا إلَّا من هذا الوجه.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن واسع سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بلال بن ابوبردہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: ”اے بلال! بے شک تمہارے والد نے تمہارے دادا کے واسطے سے مجھے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جہنم میں ایک وادی ہے۔ اس وادی میں ایک کنواں ہے جسے ہبہب کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ حق ہے کہ وہ ہر جابر شخص کو اس میں ٹھہرائے گا۔“ تو اے بلال! اس بات سے بچنا کہ تم بھی ان میں سے ہو جاؤ۔“
یہ حدیث روایت کرنے میں ازہر بن سنان نے محمد بن واسع سے تفرد اختیار کیا ہے، ہم نے اسے صرف اسی سند سے عالی (کم واسطوں سے) لکھا ہے۔
یہ حدیث روایت کرنے میں ازہر بن سنان نے محمد بن واسع سے تفرد اختیار کیا ہے، ہم نے اسے صرف اسی سند سے عالی (کم واسطوں سے) لکھا ہے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا بحر بن نَصر، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "يُنصَبُ للكافر (6) يومُ القيامة خمسين ألفَ سنة، كما لم يَعمَلْ في الدنيا، ويظنُّ أنه مُواقعِتُه (1) " (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8766 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8766 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کافر کو قیامت کے دن پچاس ہزار سال کے لیے کھڑا کیا جائے گا، کیونکہ اس نے دنیا میں کوئی (نیک) عمل نہیں کیا تھا، اور وہ یہ گمان کرے گا کہ وہ اس (جہنم) میں گرنے ہی والا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن علي بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا محمد بن عُزَيز الأَيْلي، أنَّ سَلَامة حدَّثهم عن عُقَيل، حدَّثني ابن شِهاب، أنَّ أبا سَلَمة بن عبد الرحمن وسعيدَ بن المسيب [قالا]: قال أبو هريرة: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول: "والذي نفسُ محمدٍ بيده، إِنَّ قَدْرَ ما بين شَفَةِ النَّارِ وقعرِها لَكصَخْرَةٍ زِنَتُها سبعُ خَلِفَاتٍ بشُحومِهنَّ ولُحومِهنَّ وأولادِهنَّ، تَهْوِي فيما بين شَفَةِ النارِ وقَعرِها إلى أن تقعَ قعرَها سبعين خريفًا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُجرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8767 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُجرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8767 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! جہنم کے کنارے اور اس کی گہرائی کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اگر کوئی چٹان جس کا وزن چربی، گوشت اور بچوں سے لدی سات حاملہ اونٹنیوں کے برابر ہو، وہ جہنم کے کنارے اور اس کی گہرائی کے درمیان گرے، تو اسے تہہ تک پہنچنے میں ستر سال لگ جائیں گے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! جہنم کے کنارے اور اس کی گہرائی کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اس کی تہہ تک پہنچنے میں ستر سال لگ جائیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بَمْرو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثني يزيد بن هارون أخبرنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن عيسى بن طَلْحة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ الرجل لَيتكلَّمُ بالكلمةِ ما يظنُّ أن تَبلُغَ ما بَلَغَت، يَهوِي بها سبعين خَريفًا في النار" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8769 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8769 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ آدمی بعض اوقات کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے متعلق وہ گمان بھی نہیں کرتا کہ وہ اتنی دور تک جائے گی (یعنی اتنی بری ہوگی)، مگر وہ اس (ایک بات) کی وجہ سے ستر سال تک جہنم کی گہرائی میں گرتا چلا جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة، عن أبي أيوب، عن عبد الله بن عَمْرو، قوله ﷿: ﴿وَنَادَوْا يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ قال: يُخلِّي عنهم أربعين عامًا لا يُجِيبُهم، ثم أجابهم: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [الزخرف: 77]، فيقولون: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ [المؤمنون: 107]، قال: فيُخلِّي عنهم مثل الدنيا، ثم أجابهم: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: 108]، قال: فوالله ما نَبَسَ القومُ بعد هذه الكلمة، إن كان [إِلَّا] الزَّفِيرُ والشَّهيقُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8770 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8770 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَنَادَوْا يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ ”اور وہ پکاریں گے: اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے۔“ [سورة الزخرف: 77] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فرشتے انہیں چالیس سال تک یونہی چھوڑے رکھیں گے اور کوئی جواب نہیں دیں گے، پھر وہ انہیں جواب دیں گے: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ ”بے شک تم (اسی حال میں) رہنے والے ہو۔“ [سورة الزخرف: 77] تو وہ (جہنمی) کہیں گے: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ ”اے ہمارے رب! ہمیں اس میں سے نکال دے، پھر اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے۔“ [سورة المؤمنون: 107] وہ فرماتے ہیں کہ فرشتے انہیں پھر دنیا کی عمر کے برابر چھوڑے رکھیں گے، پھر انہیں یہ جواب دیں گے: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ ”اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو، اور مجھ سے بات نہ کرو۔“ [سورة المؤمنون: 108] راوی کہتے ہیں: پس اللہ کی قسم! اس بات کے بعد ان لوگوں کے منہ سے کوئی حرف نہیں نکلے گا، بس ان کا کام آہ و زاری اور چیخ و پکار ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔