حدیث نمبر: 8942
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن (3) عبد الواحد بن حمزة، عن عَبّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول: "اللهمَّ حاسِبْني حسابًا يسيرًا" قالت: فقلت: يا رسول الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال: "أن يُنظَرَ في سيِّئاتِه ويُتجاوز له عنها (4)، إنَّه من نُوقِشَ الحسابَ يومَئِذٍ هَلَك، وكلُّ ما يصيبُ المؤمنَ يُكفِّرُ الله عنه (1) من سيّئاتِه، حتى الشَّوكةُ تَشُوكُه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السياقة. وشاهده عن عائشة ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8727 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اللّٰهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» ”اے اللہ! مجھ سے آسان حساب لے۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ اس کے اعمال نامے پر نظر ڈالی جائے اور اس سے درگزر کر دیا جائے، بے شک اس دن جس سے حساب میں جرح (باریک بینی) کی گئی وہ ہلاک ہو گیا، اور مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے چبھتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ اور اس کا شاہد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (درج ذیل) ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8942
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون قصة دعائه ﷺ بالحساب اليسير
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قصة دعائه ﷺ بالحساب اليسير، فهي زيادة شاذَّة كما سبق بيانه برقم (191)» [ترقيم الرساله 8942] [ترقيم الشركة 8833] [ترقيم العلميه 8727]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: بن.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ عن) تحریف ہو کر "بن" بن گیا ہے۔
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عن.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ بن) تحریف ہو کر "عن" بن گیا ہے۔
(1) لفظ "عنه ليس في (ز) و (ب).
نوٹ / توضیح: لفظ "عنہ" نسخہ (ز) اور (ب) میں نہیں ہے۔
(2) حديث صحيح دون قصة دعائه ﷺ بالحساب اليسير، فهي زيادة شاذَّة كما سبق بيانه برقم (191).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے سوائے نبی ﷺ کے حسابِ یسیر کی دعا مانگنے والے قصے کے، کیونکہ وہ "شاذ" (ضعیف) اضافہ ہے جیسا کہ اس کا بیان نمبر (191) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8942 سے ماخوذ ہے۔