حدیث نمبر: 8943
أخبرناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا عُبيد الله بن عمر القَواريري، حدثنا حَرَميُّ بن عُمَارة، حدثنا الحَرِيش بن الخِرِّيت، حدثنا ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة قالت: مرَّ بي رسولُ الله ﷺ وأنا رافعةٌ يديَّ، وأنا أقول: اللهمَّ حاسِبْني حسابًا يسيرًا، فقال رسول الله ﷺ: تدرينَ ما ذلك الحسابُ؟ " فقلت: ذَكَرَ الله ﷿ في كتابه: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [الانشقاق: 8]، فقال لي: "يا عائشةُ، إنه من حُوسِبَ خُصِمَ؛ ذلك المَمَرُّ بين يَدَيِ اللهِ تعالى" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8728 - الحريش قال البخاري في حديثه نظر
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا کر رہی تھی: «اللّٰهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا» ”اے اللہ! مجھ سے آسان حساب لے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتی ہو کہ وہ (آسان) حساب کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ ”تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔“ [سورة الانشقاق: 8] تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے عائشہ! بے شک جس کا (اس دن باقاعدہ) حساب لیا گیا وہ مارا گیا، یہ (آسان حساب) تو محض اللہ تعالیٰ کے سامنے اعمال کی پیشی کا نام ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8943
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد فيه لين من جهة الحريش بن الخِرّيت، لكنه متابع على أصل الحديث كما سيأتي» [ترقيم الرساله 8943] [ترقيم الشركة 8834] [ترقيم العلميه 8728]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد فيه لين من جهة الحريش بن الخِرّيت، لكنه متابع على أصل الحديث كما سيأتي. ابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكة.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اگرچہ اس سند میں "الحریش بن الخِرّیت" کی وجہ سے کچھ کمزوری (لین) ہے، لیکن اصل حدیث پر ان کی متابعت موجود ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
فنی نکتہ / علّت: ابن ابی ملیکہ سے مراد "عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ" ہیں۔
وأخرجه الدارقطني في المؤتلف والمختلف" 2/ 607 - 608 من طريق السَّرِي بن عاصم، عن حرمي بن عمارة بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" (2/ 607-608) میں السری بن عاصم کے طریق سے، حرمی بن عمارہ سے، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا الطبري في "تفسيره" 30/ 116 من طريق مسلم بن إبراهيم الفراهيدي، عن الحريش بن الخريت به.
حوالہ / مصدر: اور اسے "مختصراً" طبری نے اپنی "تفسیر" (30/ 116) میں مسلم بن ابراہیم فراہیدی کے طریق سے، الحریش بن الخریت سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 40 / (24200) و 41/ (24605) و (24958) و 42 / (25707)، والبخاري (103) و (4939) و (6536)، ومسلم (2876)، وأبو داود (3093)، والترمذي (2426) و (3337)، والنسائي (11554) و (11555) و (11595)، وابن حبان (7369 - 7371) من طرق عن ابن أبي مليكة، عن عائشة. وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اور اسے اسی طرح احمد (40/ 24200، 41/ 24605، 24958، 42/ 25707)، بخاری (103، 4939، 6536)، مسلم (2876)، ابو داود (3093)، ترمذی (2426، 3337)، نسائی (11554، 11555، 11595) اور ابن حبان (7369 تا 7371) نے ابن ابی ملیکہ سے متعدد طرق کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ماقبل والی روایت بھی دیکھیں۔
وقد أشار المصنف إلى رواية ابن أبي مليكة عند الشيخين بإثر الحديث المتقدم برقم (191).
نوٹ / توضیح: مصنف نے شیخین (بخاری و مسلم) کے ہاں ابن ابی ملیکہ کی روایت کی طرف اشارہ اس سے قبل حدیث نمبر (191) کے فوراً بعد کیا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8943 سے ماخوذ ہے۔