کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قیامت کے دن جب نیکیاں باقی نہیں رہیں گی تو (دوسروں کے) گناہ لاد دیے جائیں گے
حدثنا أبو منصور محمد بن القاسم العَتَكي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القُرَشي، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهْمي، أخبرنا عبَّاد بن شَيْبة الحَبَطي، عن سعيد بن أنس، عن أنس بن مالك قال: بَيْنا رسولُ الله ﷺ جالسٌ إذ رأيناه ضَحِكَ حتى بَدَتْ ثَناياه، فقال له عمر ما أضحَكَك يا رسولَ الله بأبي أنت وأمِّي؟ قال: "رجلانِ من أمَّتي جَثَيَا بين يَدَيْ ربِّ العِزَّة، فقال أحدُهما: يا ربِّ، خُذْ لي مَظْلِمَتي من أخي، فقال الله ﵎ للطالب: فكيف تَصنعُ بأخيك ولم يَبْقَ من حسناته شيءٌ؟ قال: يا ربِّ، فليَحمِلْ من أَوزاري، قال: وفاضت عَيْنا رسولِ الله ﷺ بالبكاء، ثم قال: "إِنَّ ذاكَ اليومَ عظيمٌ، يحتاج الناسُ أن يُحمَلَ عنهم من أَوزارِهم، فقال الله للطالب: ارفَعْ بصرَك فانظُرْ في الجِنَان، فرفع رأسَه فقال: يا ربِّ، أَرى مدائنَ من ذهبٍ وقُصورًا من ذهب مُكلَّلةٌ (2) باللؤلؤ، لأيِّ نبيٍّ هذا، أو لأيِّ صِدِّيق هذا، أو لأيِّ شهيدٍ هذا؟ قال: هذا لمن أَعطى الثَّمنَ، قال: يا ربِّ، ومن يَملِكُ ذلك؟ قال: أنت تَملِكُه، قال: بماذا؟ قال: بعَفْوِك عن أخيك، قال: يا ربِّ، فإني قد عَفَوتُ عنه، قال الله ﷿: فخُذْ بيدِ أخيك فأَدخِلْه الجنةَ"، فقال رسول الله ﷺ عند ذلك: "اتَّقُوا الله وأَصلحوا ذاتَ بينِكم، فإنَّ الله يُصلِحُ بين المسلمين" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ ہم نے دیکھا آپ ﷺ اس طرح مسکرائے کہ آپ کے سامنے کے دانت مبارک ظاہر ہو گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کس بات نے آپ کو ہنسایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے دو شخص رب العزت کے سامنے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے تھے، ان میں سے ایک نے عرض کیا: اے میرے رب! اپنے اس بھائی سے میرا حق (مظلمہ) دلا دے، تو اللہ عزوجل نے مطالبہ کرنے والے سے فرمایا: تم اپنے بھائی کے ساتھ کیا کرو گے جبکہ اس کی نیکیوں میں سے اب کچھ بھی باقی نہیں رہا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر یہ میرے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے“، (یہ بیان کرتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، پھر فرمایا: ”بے شک وہ دن بہت عظیم ہوگا، لوگ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ ان کے گناہوں کا بوجھ بانٹ لیا جائے، پھر اللہ نے مطالبہ کرنے والے سے فرمایا: اپنی نگاہ اٹھاؤ اور ان جنتوں کی طرف دیکھو، اس نے اپنا سر اٹھایا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں سونے کے شہر اور سونے کے ایسے محلات دیکھ رہا ہوں جو موتیوں سے جڑے ہوئے ہیں، یہ کس نبی، کس صدیق یا کس شہید کے لیے ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ اس کے لیے ہے جو اس کی قیمت ادا کرے، اس نے عرض کیا: اے میرے رب! اس کی قیمت کا کون مالک ہو سکتا ہے؟ اللہ نے فرمایا: تم اس کے مالک بن سکتے ہو، اس نے پوچھا: کس طرح؟ فرمایا: اپنے بھائی کو معاف کرنے کے ذریعے، اس نے عرض کیا: اے میرے رب! میں نے اسے معاف کر دیا، تب اللہ عزوجل نے فرمایا: اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور اسے جنت میں لے جاؤ“، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی معاملات درست کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے درمیان صلح کراتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8933
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرَّة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرَّة، عباد بن شيبة ضعيف منكر الحديث، وشيخه لا يُعرف كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وذكر له البخاري في "تاريخه الكبير" 3/ 459 هذا الحديث في المظالم وقال: لا يتابع عليه، وقال ابن حجر بعد أن ساقه في "المطالب العالية" (4590) عن أبي يعلى: ضعيف جدًّا» [ترقيم الرساله 8933] [ترقيم الشركة 8824]
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا عبد الله بن بَحِير، عن عبد الرحمن بن يزيد قال: سمعت ابنَ عمر يقول: قال رسول الله ﷺ: "من سَرَّه أن يَنظُرَ إلى يوم القيامة كأنه رأيُ عينٍ، فليقرأ: ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ و ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ﴾ و ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8719 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے یہ پسند ہو کہ وہ قیامت کے دن کو اس طرح دیکھے کہ گویا وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ [سورة التكوير: 1]، ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ﴾ [سورة الانفطار: 1] اور ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] کی تلاوت کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8934
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن يزيد الصنعاني» [ترقيم الرساله 8934] [ترقيم الشركة 8825] [ترقيم العلميه 8719]
حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا الفضل بن عيسى الرَّقَاشي، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ العارَ لَيَلزَمُ المرءَ يومَ القيامة حتى يقول: يا ربِّ، لإَرسالُك بي إلى النار، أُيسرُ عليَّ ممّا أَلقَى، وإنه لَيعلمُ ما فيها من شدَّةِ العذاب" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8720 - الفضل واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن شرم و ندامت انسان کو اس قدر لاحق ہوگی کہ وہ پکار اٹھے گا: اے میرے رب! میرا جہنم کی طرف بھیج دیا جانا میرے لیے اس (رسوائی) سے زیادہ آسان ہے جس کا میں سامنا کر رہا ہوں، حالانکہ وہ بخوبی جانتا ہوگا کہ اس آگ میں کتنا سخت عذاب ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8935
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا من أجل الفضل بن عيسى
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل الفضل بن عيسى، فإنه واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه". وأخرجه البزار (3423)» [ترقيم الرساله 8935] [ترقيم الشركة 8826] [ترقيم العلميه 8720]