حدیث نمبر: 8932
أخبرنا أبو بكر بن أبي نَصْر المزكِّي بمَرْو، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا صَدَقةُ بن موسى، عن أبي عمران الجَوْني، عن يزيد بن بابَنُوس، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "الدَّواوينُ ثلاثةٌ، فديوانٌ لا يَغْفِرُ الله منه شيئًا، وديوانٌ لا يَعبَأ الله به شيئًا، وديوانٌ لا يَترُكُ الله منه شيئًا، فأما الديوانُ الذي لا يَغْفِرُ الله منه شيئًا، فالإشراكُ بالله، قال الله ﷿: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [النساء: 48]، وأما الديوانُ الذي لا يَعبَأُ الله به شيئًا قطُّ، فظُلمُ العبد نفسه فيما بينه وبين ربِّه، وأما الديوانُ الذي لا يَتُرك الله منه شيئًا، فمظالمُ العبادِ بينهم، القِصاصُ لا مَحالةَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8717 - صدقة ضعفوه وابن بابنوس فيه جهالة
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اعمال کے دفاتر تین طرح کے ہیں، ایک وہ دفتر ہے جسے اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا، ایک وہ دفتر ہے جس کی اللہ کوئی پروا نہیں کرے گا، اور ایک وہ دفتر ہے جس میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، رہا وہ دفتر جسے اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [سورة النساء: 48]، اور رہا وہ دفتر جس کی اللہ بالکل پروا نہیں کرے گا تو وہ بندے کا اپنے نفس پر وہ ظلم ہے جو اس کے اور اس کے رب کے درمیان گناہوں کی صورت میں ہو، اور رہا وہ دفتر جس میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا تو وہ بندوں کے آپسی مظالم ہیں، جن کا بدلہ (قصاص) بہرصورت لیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8932
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسى وقد تفرَّد به وقال الذهبي في "تلخيصه": صدقة ضعَّفوه وابن بابنوس فيه جهالة» [ترقيم الرساله 8932] [ترقيم الشركة 8823] [ترقيم العلميه 8717]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف صدقة بن موسى وقد تفرَّد به وقال الذهبي في "تلخيصه": صدقة ضعَّفوه وابن بابنوس فيه جهالة. انتهى، أبو عمران الجوني: هو عبد الملك بن حبيب.
درجۂ حدیث: صدقہ بن موسیٰ کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے اور وہ اس روایت میں "منفرد" ہیں۔ حافظ ذہبی اپنی "تلخیص" میں فرماتے ہیں: "صدقہ کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے اور (دوسرے راوی) ابن بابنوس میں جہالت ہے۔" (انتہیٰ)۔
فنی نکتہ / علّت: ابو عمران الجونی سے مراد "عبد الملک بن حبیب" ہیں۔
وأخرجه أحمد 43 / (26031) عن يزيد بن هارون بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (43/ 26031) نے یزید بن ہارون سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8932 سے ماخوذ ہے۔