المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ الْحَسَنَاتِ فَيُحْمَلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْأَوْزَارِ باب: قیامت کے دن جب نیکیاں باقی نہیں رہیں گی تو (دوسروں کے) گناہ لاد دیے جائیں گے
حدیث نمبر: 8935
حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا الفضل بن عيسى الرَّقَاشي، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ العارَ لَيَلزَمُ المرءَ يومَ القيامة حتى يقول: يا ربِّ، لإَرسالُك بي إلى النار، أُيسرُ عليَّ ممّا أَلقَى، وإنه لَيعلمُ ما فيها من شدَّةِ العذاب" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8720 - الفضل واهحافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن شرم و ندامت انسان کو اس قدر لاحق ہوگی کہ وہ پکار اٹھے گا: اے میرے رب! میرا جہنم کی طرف بھیج دیا جانا میرے لیے اس (رسوائی) سے زیادہ آسان ہے جس کا میں سامنا کر رہا ہوں، حالانکہ وہ بخوبی جانتا ہوگا کہ اس آگ میں کتنا سخت عذاب ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل الفضل بن عيسى، فإنه واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه". وأخرجه البزار (3423) - كشف الأستار) عن محمد بن منصور الطوسي، عن عبد الوهاب بن عطاء، بهذا الإسناد. وقال فيه: "إنَّ العرق ليلزم المرء … ".
درجۂ حدیث: فضل بن عیسیٰ کی وجہ سے اس کی سند "بہت زیادہ ضعیف" ہے، کیونکہ وہ "واہی" (کمزور ترین) راوی ہے جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں کہا۔
حوالہ / مصدر: اسے بزار (3423 - کشف الاستار) نے محمد بن منصور طوسی سے، انہوں نے عبد الوہاب بن عطاء سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا۔ اس میں الفاظ ہیں: "بے شک پسینہ آدمی کو چمٹ جائے گا..."
وأخرجه حسين المروزي في زياداته على "زهد ابن المبارك" (1320)، وأبو يعلى في "مسنده" (1776)، وابن عدي في "الكامل" 6/ 13 من طريق معتمر بن سليمان، عن الفضل بن عيسى، به. وفي حديثه: "إنَّ العار والخزية ....
حوالہ / مصدر: اسے حسین المروزی نے "زہد ابن مبارک" (1320) پر اپنی زیادات میں، ابو یعلیٰ نے "المسند" (1776) اور ابن عدی نے "الکامل" (6/ 13) میں معتمر بن سلیمان کے طریق سے، فضل بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ان کی حدیث میں الفاظ ہیں: "بے شک عار اور رسوائی..."
درجۂ حدیث: فضل بن عیسیٰ کی وجہ سے اس کی سند "بہت زیادہ ضعیف" ہے، کیونکہ وہ "واہی" (کمزور ترین) راوی ہے جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں کہا۔
حوالہ / مصدر: اسے بزار (3423 - کشف الاستار) نے محمد بن منصور طوسی سے، انہوں نے عبد الوہاب بن عطاء سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا۔ اس میں الفاظ ہیں: "بے شک پسینہ آدمی کو چمٹ جائے گا..."
وأخرجه حسين المروزي في زياداته على "زهد ابن المبارك" (1320)، وأبو يعلى في "مسنده" (1776)، وابن عدي في "الكامل" 6/ 13 من طريق معتمر بن سليمان، عن الفضل بن عيسى، به. وفي حديثه: "إنَّ العار والخزية ....
حوالہ / مصدر: اسے حسین المروزی نے "زہد ابن مبارک" (1320) پر اپنی زیادات میں، ابو یعلیٰ نے "المسند" (1776) اور ابن عدی نے "الکامل" (6/ 13) میں معتمر بن سلیمان کے طریق سے، فضل بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ان کی حدیث میں الفاظ ہیں: "بے شک عار اور رسوائی..."
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8935 سے ماخوذ ہے۔