حدیث نمبر: 8933
حدثنا أبو منصور محمد بن القاسم العَتَكي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القُرَشي، حدثنا عبد الله بن بكر السَّهْمي، أخبرنا عبَّاد بن شَيْبة الحَبَطي، عن سعيد بن أنس، عن أنس بن مالك قال: بَيْنا رسولُ الله ﷺ جالسٌ إذ رأيناه ضَحِكَ حتى بَدَتْ ثَناياه، فقال له عمر ما أضحَكَك يا رسولَ الله بأبي أنت وأمِّي؟ قال: "رجلانِ من أمَّتي جَثَيَا بين يَدَيْ ربِّ العِزَّة، فقال أحدُهما: يا ربِّ، خُذْ لي مَظْلِمَتي من أخي، فقال الله ﵎ للطالب: فكيف تَصنعُ بأخيك ولم يَبْقَ من حسناته شيءٌ؟ قال: يا ربِّ، فليَحمِلْ من أَوزاري، قال: وفاضت عَيْنا رسولِ الله ﷺ بالبكاء، ثم قال: "إِنَّ ذاكَ اليومَ عظيمٌ، يحتاج الناسُ أن يُحمَلَ عنهم من أَوزارِهم، فقال الله للطالب: ارفَعْ بصرَك فانظُرْ في الجِنَان، فرفع رأسَه فقال: يا ربِّ، أَرى مدائنَ من ذهبٍ وقُصورًا من ذهب مُكلَّلةٌ (2) باللؤلؤ، لأيِّ نبيٍّ هذا، أو لأيِّ صِدِّيق هذا، أو لأيِّ شهيدٍ هذا؟ قال: هذا لمن أَعطى الثَّمنَ، قال: يا ربِّ، ومن يَملِكُ ذلك؟ قال: أنت تَملِكُه، قال: بماذا؟ قال: بعَفْوِك عن أخيك، قال: يا ربِّ، فإني قد عَفَوتُ عنه، قال الله ﷿: فخُذْ بيدِ أخيك فأَدخِلْه الجنةَ"، فقال رسول الله ﷺ عند ذلك: "اتَّقُوا الله وأَصلحوا ذاتَ بينِكم، فإنَّ الله يُصلِحُ بين المسلمين" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ ہم نے دیکھا آپ ﷺ اس طرح مسکرائے کہ آپ کے سامنے کے دانت مبارک ظاہر ہو گئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کس بات نے آپ کو ہنسایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے دو شخص رب العزت کے سامنے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے تھے، ان میں سے ایک نے عرض کیا: اے میرے رب! اپنے اس بھائی سے میرا حق (مظلمہ) دلا دے، تو اللہ عزوجل نے مطالبہ کرنے والے سے فرمایا: تم اپنے بھائی کے ساتھ کیا کرو گے جبکہ اس کی نیکیوں میں سے اب کچھ بھی باقی نہیں رہا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! پھر یہ میرے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے“، (یہ بیان کرتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، پھر فرمایا: ”بے شک وہ دن بہت عظیم ہوگا، لوگ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ ان کے گناہوں کا بوجھ بانٹ لیا جائے، پھر اللہ نے مطالبہ کرنے والے سے فرمایا: اپنی نگاہ اٹھاؤ اور ان جنتوں کی طرف دیکھو، اس نے اپنا سر اٹھایا اور عرض کیا: اے میرے رب! میں سونے کے شہر اور سونے کے ایسے محلات دیکھ رہا ہوں جو موتیوں سے جڑے ہوئے ہیں، یہ کس نبی، کس صدیق یا کس شہید کے لیے ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ اس کے لیے ہے جو اس کی قیمت ادا کرے، اس نے عرض کیا: اے میرے رب! اس کی قیمت کا کون مالک ہو سکتا ہے؟ اللہ نے فرمایا: تم اس کے مالک بن سکتے ہو، اس نے پوچھا: کس طرح؟ فرمایا: اپنے بھائی کو معاف کرنے کے ذریعے، اس نے عرض کیا: اے میرے رب! میں نے اسے معاف کر دیا، تب اللہ عزوجل نے فرمایا: اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور اسے جنت میں لے جاؤ“، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی معاملات درست کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے درمیان صلح کراتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الأهوال / حدیث: 8933
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرَّة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرَّة، عباد بن شيبة ضعيف منكر الحديث، وشيخه لا يُعرف كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وذكر له البخاري في "تاريخه الكبير" 3/ 459 هذا الحديث في المظالم وقال: لا يتابع عليه، وقال ابن حجر بعد أن ساقه في "المطالب العالية" (4590) عن أبي يعلى: ضعيف جدًّا» [ترقيم الرساله 8933] [ترقيم الشركة 8824]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ز) و (ك) و (ب) مدللة، والمثبت من (م) ومصادر التخريج، وهو الصواب. ومكلَّلة: أي محفوفة بأكاليل اللؤلؤ.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ک) اور (ب) میں (لفظ) "مدللۃ" ہے، جبکہ جو ہم نے نسخہ (م) اور تخریج کے مصادر سے ثابت کیا ہے وہی درست ہے (یعنی مکللۃ)۔ "مکللۃ" کا مطلب ہے: موتیوں کے تاجوں/لڑیوں سے ڈھکی ہوئی۔
(3) إسناده ضعيف بمرَّة، عباد بن شيبة ضعيف منكر الحديث، وشيخه لا يُعرف كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وذكر له البخاري في "تاريخه الكبير" 3/ 459 هذا الحديث في المظالم وقال: لا يتابع عليه، وقال ابن حجر بعد أن ساقه في "المطالب العالية" (4590) عن أبي يعلى: ضعيف جدًّا. وأخرجه ابن أبي الدنيا في "حسن الظن بالله" (118)، وأبو يعلى في "مسنده الكبير" كما في "المطالب العالية" (4590)، وابن أبي داود في "البعث" (32)، والخرائطي في "مساوئ الأخلاق" (644) من طرق عن عبد الله بن بكر السهمي، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ سند یکسر ضعیف ہے۔ عباد بن شیبہ ضعیف اور منکر الحدیث ہے، اور اس کا شیخ "غیر معروف" ہے جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں کہا۔ بخاری نے "التاریخ الکبیر" (3/ 459) میں مظالم کے بیان میں اس حدیث کا ذکر کیا اور فرمایا: "اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔" حافظ ابن حجر نے "المطالب العالیہ" (4590) میں اسے ابو یعلیٰ کے حوالے سے ذکر کرنے کے بعد فرمایا: "یہ بہت زیادہ ضعیف (ضعیف جداً) ہے۔"
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی الدنیا نے "حسن الظن باللہ" (118)، ابو یعلیٰ نے "المسند الکبیر" میں (جیسا کہ المطالب 4590 میں ہے)، ابن ابی داود نے "البعث" (32) اور خرائطی نے "مساوی الاخلاق" (644) میں عبد اللہ بن بکر السہمی سے متعدد طرق کے ساتھ اسی سند سے تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8933 سے ماخوذ ہے۔