المستدرك على الصحيحين
كتاب : الأهوال— ( قیامت کی ) ہولناکیوں کے بارے میں روایات
لَا يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ حَتَّى يُنَقَّوْا عَنْ مَظَالِمِ الدُّنْيَا باب: جنتی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک دنیا کے مظالم کا حساب نہ چکا لیں
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزِير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريسَ الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاريّ، حدثني محمد بن عمرو اللَّيْثي، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِبٍ، عن عبد الله بن الزُّبَير، عن الزُّبير قال: لما نَزَلت هذه الآيةُ وهذه السُّورة على رسول الله ﷺ: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [الزمر: 30 - 31]، قال الزُّبير: يا رسول الله، أيُكرَّرُ علينا ما بينَنا في الدنيا مع خَوَاصِّ الذُّنوب؟! قال: "نعم، ليُكرَّرَنَّ عليكم ذلك حتى يُؤدَّى إلى كلِّ ذي حقٍّ حقُّه"، قال الزّبير: والله إنَّ الأمرَ لشديد (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8708 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اور یہ سورت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [سورة الزمر: 30 - 31]، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا دنیا میں ہمارے درمیان پیش آنے والے معاملات انفرادی گناہوں کے ساتھ دوبارہ دہرائے جائیں گے؟!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ تمہارے سامنے ضرور دہرائے جائیں گے یہاں تک کہ ہر حق دار کو اس کا حق ادا کر دیا جائے گا“، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ معاملہ تو بہت ہی سخت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت (نمبر 3629 پر) مکرر ہے، لیکن وہاں اس کی سند میں (راوی) زبیر کا ذکر نہیں تھا۔