کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس امت کے بعض مجددین (دین کی تجدید کرنے والوں) کا تذکرہ
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان بن كامل المُرادِي، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن شُرحبيل (2) بن يزيد، عن أبي عَلقَمة، عن أبي هريرة - ولا أعلمُه إلَّا عن رسول الله ﷺ قال: "إنَّ الله يَبعَثُ إلى هذه الأُمَّة على رأس كلِّ مئة سنةٍ من يُجدِّدُ لها دينَها" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8592 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8592 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے — اور میں اسے رسول اللہ ﷺ ہی سے منسوب سمجھتا ہوں — کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لیے ہر سو سال کے اختتام پر ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔“
فسمعتُ الأستاذَ أبا الوليد ﵁ يقول: كنت في مجلس أبي العباس بن سُرَيج، إذْ قام إليه شيخُ يَمدحُه، فسمعته يقول: حدثنا أبو الطاهر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن شُرحبيل بن يزيد عن أبي عَلقَمة عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنَّ الله يَبعَثُ على رأس كلِّ مئة سنةٍ من يُجدِّدُ لها دينَها". فأَبشِرْ أيها القاضي، فإنَّ الله بَعَثَ على رأس المئة عمرَ بنَ عبد العزيز، وبَعَثَ على رأس المئتين محمدَ بنَ إدريس الشافعيَّ، وأنت على رأس الثلاث مئةٍ، ثم أَنشأَ يقول: اثنانِ قدْ مَضَيا وبُورِكَ فيهما … عمرُ الخليفةُ ثمَّ حِلْفُ السُّؤدَدِ الشافعيُّ الألمعيُّ محمدٌ … إِرْثُ النبوَّةِ وابنُ عمِّ محمَّدِ أَبشِرْ أبا العباسِ إنَّكَ ثالثٌ … مِن بعدِهم سُقْيا لتُرْبةِ أحمدِ قال: فصاحَ القاضي أبو العباس ﵀ بالبكاء، وقال: قد نَعَى إليَّ نَفْسي هذا الشيخُ. فحدَّثَني جماعةٌ من أصحابي: أنهم حَضَروا مجلسَ الشيخ الإمام أبي الطيِّب سهلَ بن محمد بن سليمان، وجَرَى ذكرُ هذه الحكاية، فحَكَوْها عنِّي بحَضْرتِه، وفي المجلس أبو عَمرو البَسْطاميُّ الفقيه الرَّزْجاهي (1)، فأنشأَ أبو عمرو في الوقتِ: والرابعُ المشهورُ سَهلُ محمَّدٍ … أَضحى إمامًا عند كلِّ موحِّد يَأْوي إليه المسلمون بأَسرِهمْ … في العِلمِ إنْ حَرِجُوا بخَطْبٍ مُؤبِدِ (2) لا زالَ فيما بينَنا شيخَ الوَرَى … للمذهبِ المختارِ خيرَ مُجدِّدِ (3) فسألتُ الفقيه أبا عمرٍو في مجلسي، فأَنشدَنِيها.
حافظ طلحہ بابر
میں نے استاد ابوالولید رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ابو العباس بن سریج کی مجلس میں موجود تھا جب ایک بزرگ ان کی مدح و ثنا کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: ہمیں ابوالطاہر خولانی نے حدیث بیان کی کہ ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے سعید بن ابی ایوب سے، انہوں نے شرحبیل بن یزید سے، انہوں نے ابوعلقمہ سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ ہر سو سال کے سرے پر ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس امت کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔“ پھر ان بزرگ نے کہا: اے قاضی! آپ کو بشارت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلی صدی کے اختتام پر عمر بن عبدالعزیز کو مبعوث فرمایا، دوسری صدی کے اختتام پر محمد بن ادریس شافعی کو، اور تیسری صدی کے اختتام پر آپ (ابو العباس بن سریج) موجود ہیں، پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے: ”دو بزرگ تو گزر چکے ہیں جن میں برکت رکھی گئی تھی، ایک خلیفہ عمر (بن عبدالعزیز) اور دوسرے سیادت کے پیکر، نہایت ذہین و فطین محمد بن ادریس شافعی، جو میراثِ نبوت کے حامل اور محمد ﷺ کے چچا زاد ہیں؛ اے ابو العباس! آپ خوش ہو جائیے کہ ان کے بعد تیسرے آپ ہی ہیں، احمد ﷺ کے مدفن کی خاک پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: یہ سن کر قاضی ابو العباس رحمہ اللہ زار و قطار رونے لگے اور فرمایا: اس بزرگ نے مجھے میری وفات کی خبر دے دی ہے۔
میرے کچھ ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ وہ شیخ امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان کی مجلس میں حاضر تھے جہاں اس حکایت کا تذکرہ ہوا، انہوں نے میری غیر موجودگی میں یہ قصہ ان کے سامنے بیان کیا، اس مجلس میں فقیہ ابو عمرو بسطامی بھی موجود تھے، انہوں نے فی البدیہہ یہ اشعار کہے: ”اور چوتھے مشہور (مجدد) سہل بن محمد ہیں، جو ہر موحد کے نزدیک امام بن چکے ہیں؛ تمام مسلمان علم کے حصول کے لیے انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں جب وہ کسی سنگین معاملے میں پریشان ہوں؛ وہ ہمیشہ ہمارے درمیان مخلوق کے شیخ اور منتخب کردہ مذہب کے بہترین مجدد رہیں۔“ پھر میں نے اپنی مجلس میں فقیہ ابو عمرو سے ان اشعار کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ پڑھ کر سنائے۔
میرے کچھ ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ وہ شیخ امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان کی مجلس میں حاضر تھے جہاں اس حکایت کا تذکرہ ہوا، انہوں نے میری غیر موجودگی میں یہ قصہ ان کے سامنے بیان کیا، اس مجلس میں فقیہ ابو عمرو بسطامی بھی موجود تھے، انہوں نے فی البدیہہ یہ اشعار کہے: ”اور چوتھے مشہور (مجدد) سہل بن محمد ہیں، جو ہر موحد کے نزدیک امام بن چکے ہیں؛ تمام مسلمان علم کے حصول کے لیے انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں جب وہ کسی سنگین معاملے میں پریشان ہوں؛ وہ ہمیشہ ہمارے درمیان مخلوق کے شیخ اور منتخب کردہ مذہب کے بہترین مجدد رہیں۔“ پھر میں نے اپنی مجلس میں فقیہ ابو عمرو سے ان اشعار کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ پڑھ کر سنائے۔
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سفيان، عن جامع بن أبي راشدٍ، عن أبي يَعلَى مُنذِر الثَّوْري، عن الحسن بن محمد بن علي، عن مولاةٍ لرسول الله ﷺ قالت: دَخَل النبيُّ ﷺ على عائشة - أو على بعض أزواج النبي ﷺ وأنا عندَه، فقال: "إذا ظَهَرَ السُّوءُ فلم يَنهُوا عنه، أَنزلَ الله بهم بأسَه" فقال إنسان: يا نبيَّ الله، وإن كان فيهم الصالحون؟! قال: "نعم، يصيبُهم ما أصابَهم ثم يَصِيرون إلى مَغفِرةِ الله ورحمته" أو "إلى رحمةِ الله ومغفرتِه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8594 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8594 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ کی ایک خادمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا — یا نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ — کے پاس تشریف لائے جبکہ میں وہیں موجود تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب (معاشرے میں) برائی ظاہر ہو جائے اور لوگ اس سے منع نہ کریں، تو اللہ ان پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔“ کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا (تب بھی عذاب آئے گا) اگرچہ ان میں نیک لوگ موجود ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ان پر بھی وہی مصیبت آئے گی جو دوسروں پر آئے گی، پھر وہ اللہ کی مغفرت اور رحمت — یا فرمایا اللہ کی رحمت اور مغفرت — کی طرف لوٹ جائیں گے۔“
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إبراهيم بن الحسين الهَمَذاني ومحمد بن غالب بن حَرْب (1)، قالا: حدثنا أبو همّام محمد بن مُحبَّب (2)، حدَّثنا سفيان بن سعيد الثَّوْري، حدثنا جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذَكَرَ الساعةَ احمرَّت وَجْنتاه، واشتدَّ غضبُه، وعَلَا صوتُه، كأنه مُنذِرُ جيشٍ: "صبَّحَكم، مَسَّاكم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8595 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8595 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تو آپ ﷺ کے رخسار مبارک سرخ ہو جاتے، غصے میں شدت آ جاتی اور آواز بلند ہو جاتی، گویا آپ ﷺ کسی لشکر کو خبردار کر رہے ہوں کہ وہ ”تم پر صبح حملہ کرنے والا ہے یا شام کو حملہ آور ہونے والا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا بشر بن بَكْر، حدثنا الأوزاعي، حدثني إسماعيل بن عبيد الله (1)، حدثني عبد الرحمن بن غَنْم الأشعَري قال: قال لي أبو الدَّرداء: كيف ترى الناسَ؟ قلت: بخيرٍ، إنَّ دعوتَهم واحدة، وإمامهم واحد، وعدوَّهم شقيّ (2)، وأُعطِياتِهم وأرزاقَهم دارَّةٌ، قال: فكيف إذا تباغَضَت قلوبُهم، وتلاعنت ألسنتُهم، وظهَرَت عداوتُهم، وفَسَدَت ذاتُ بينهم، وضرب بعضُهم رقابَ بعض؟! (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8596 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8596 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن غنم اشعری سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم لوگوں کو کیسا پاتے ہو؟ میں نے عرض کیا: بخیر و عافیت ہیں، ان کی پکار ایک ہے، ان کا امام ایک ہے، ان کا دشمن بدبخت ہے اور ان کے وظائف و رزق کثرت سے جاری ہیں، انہوں نے فرمایا: (اب تو ایسا ہے) لیکن اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض سے بھر جائیں گے، ان کی زبانیں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گی، ان کی دشمنی کھل کر ظاہر ہو جائے گی، ان کے باہمی تعلقات فساد کا شکار ہو جائیں گے اور وہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگیں گے؟!
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔