حدیث نمبر: 8806
فسمعتُ الأستاذَ أبا الوليد ﵁ يقول: كنت في مجلس أبي العباس بن سُرَيج، إذْ قام إليه شيخُ يَمدحُه، فسمعته يقول: حدثنا أبو الطاهر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن شُرحبيل بن يزيد عن أبي عَلقَمة عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إنَّ الله يَبعَثُ على رأس كلِّ مئة سنةٍ من يُجدِّدُ لها دينَها". فأَبشِرْ أيها القاضي، فإنَّ الله بَعَثَ على رأس المئة عمرَ بنَ عبد العزيز، وبَعَثَ على رأس المئتين محمدَ بنَ إدريس الشافعيَّ، وأنت على رأس الثلاث مئةٍ، ثم أَنشأَ يقول: اثنانِ قدْ مَضَيا وبُورِكَ فيهما … عمرُ الخليفةُ ثمَّ حِلْفُ السُّؤدَدِ الشافعيُّ الألمعيُّ محمدٌ … إِرْثُ النبوَّةِ وابنُ عمِّ محمَّدِ أَبشِرْ أبا العباسِ إنَّكَ ثالثٌ … مِن بعدِهم سُقْيا لتُرْبةِ أحمدِ قال: فصاحَ القاضي أبو العباس ﵀ بالبكاء، وقال: قد نَعَى إليَّ نَفْسي هذا الشيخُ. فحدَّثَني جماعةٌ من أصحابي: أنهم حَضَروا مجلسَ الشيخ الإمام أبي الطيِّب سهلَ بن محمد بن سليمان، وجَرَى ذكرُ هذه الحكاية، فحَكَوْها عنِّي بحَضْرتِه، وفي المجلس أبو عَمرو البَسْطاميُّ الفقيه الرَّزْجاهي (1)، فأنشأَ أبو عمرو في الوقتِ: والرابعُ المشهورُ سَهلُ محمَّدٍ … أَضحى إمامًا عند كلِّ موحِّد يَأْوي إليه المسلمون بأَسرِهمْ … في العِلمِ إنْ حَرِجُوا بخَطْبٍ مُؤبِدِ (2) لا زالَ فيما بينَنا شيخَ الوَرَى … للمذهبِ المختارِ خيرَ مُجدِّدِ (3) فسألتُ الفقيه أبا عمرٍو في مجلسي، فأَنشدَنِيها.
حافظ طلحہ بابر

میں نے استاد ابوالولید رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ابو العباس بن سریج کی مجلس میں موجود تھا جب ایک بزرگ ان کی مدح و ثنا کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: ہمیں ابوالطاہر خولانی نے حدیث بیان کی کہ ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے سعید بن ابی ایوب سے، انہوں نے شرحبیل بن یزید سے، انہوں نے ابوعلقمہ سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ ہر سو سال کے سرے پر ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس امت کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔“ پھر ان بزرگ نے کہا: اے قاضی! آپ کو بشارت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلی صدی کے اختتام پر عمر بن عبدالعزیز کو مبعوث فرمایا، دوسری صدی کے اختتام پر محمد بن ادریس شافعی کو، اور تیسری صدی کے اختتام پر آپ (ابو العباس بن سریج) موجود ہیں، پھر انہوں نے یہ اشعار پڑھے: ”دو بزرگ تو گزر چکے ہیں جن میں برکت رکھی گئی تھی، ایک خلیفہ عمر (بن عبدالعزیز) اور دوسرے سیادت کے پیکر، نہایت ذہین و فطین محمد بن ادریس شافعی، جو میراثِ نبوت کے حامل اور محمد ﷺ کے چچا زاد ہیں؛ اے ابو العباس! آپ خوش ہو جائیے کہ ان کے بعد تیسرے آپ ہی ہیں، احمد ﷺ کے مدفن کی خاک پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: یہ سن کر قاضی ابو العباس رحمہ اللہ زار و قطار رونے لگے اور فرمایا: اس بزرگ نے مجھے میری وفات کی خبر دے دی ہے۔
میرے کچھ ساتھیوں نے مجھے بتایا کہ وہ شیخ امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان کی مجلس میں حاضر تھے جہاں اس حکایت کا تذکرہ ہوا، انہوں نے میری غیر موجودگی میں یہ قصہ ان کے سامنے بیان کیا، اس مجلس میں فقیہ ابو عمرو بسطامی بھی موجود تھے، انہوں نے فی البدیہہ یہ اشعار کہے: ”اور چوتھے مشہور (مجدد) سہل بن محمد ہیں، جو ہر موحد کے نزدیک امام بن چکے ہیں؛ تمام مسلمان علم کے حصول کے لیے انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں جب وہ کسی سنگین معاملے میں پریشان ہوں؛ وہ ہمیشہ ہمارے درمیان مخلوق کے شیخ اور منتخب کردہ مذہب کے بہترین مجدد رہیں۔“ پھر میں نے اپنی مجلس میں فقیہ ابو عمرو سے ان اشعار کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے یہ پڑھ کر سنائے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8806
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 8806] [ترقيم الشركة 8696]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الارجاهي، والتصويب من "الأنساب" 6/ 110، و"سير أعلام النبلاء" 17/ 504، حيث ترجما أبا عمرو هذا: وهو محمد بن عبد الله بن أحمد، فقيه شافعي محدِّث أديب، ورَزْجاه: قرية من قرى بسطام.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الارجاہی" بن گیا تھا، درستگی "الانساب" (6/ 110) اور "سیر اعلام النبلاء" (17/ 504) سے کی گئی ہے، جہاں انہوں نے اس ابو عمرو—یعنی محمد بن عبداللہ بن احمد—کا ترجمہ کیا ہے جو کہ فقیہ شافعی، محدث اور ادیب ہیں۔ اور "رزجاہ" بسطام کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے۔
(2) اختلف إعجام هذه الكلمات في النسخ الخطية، ولعلَّ ما أثبتناه هو أَوجهها. والمعنى: إن وجدوا الحَرَج - وهو الضِّيق - إذا نزل بهم أمرٌ عظيم من الأوابد والغرائب، فالآبدة: كل مسألة يَدِقُّ معناها ولا تتضح إلّا لذي ذكاء وفطنة.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں ان کلمات کے نقطوں (اعجام) میں اختلاف ہے، اور شاید جو ہم نے ثابت کیا ہے وہی سب سے موزوں ہے۔ اس کا معنی یہ ہے: اگر وہ "حرج"—یعنی تنگی—محسوس کریں جب ان پر نوادر اور غرائب میں سے کوئی بڑا معاملہ (اوابد) آن پڑے۔ "آبدہ" ہر اس مسئلے کو کہتے ہیں جس کا معنی باریک ہو اور وہ سوائے ذہین و فطین شخص کے کسی اور پر واضح نہ ہو۔
(3) تحرَّف في (ز) و (ك) و (ب) إلى: غير مجدد، والتصويب من (م) و"تاريخ دمشق" لابن عساكر 51/ 341 حيث ساق هذه الحكاية بتمامها.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ک) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "غیر مجدد" ہو گیا ہے، درستگی نسخہ (م) اور ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (51/ 341) سے کی گئی ہے جہاں انہوں نے یہ حکایت مکمل بیان کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8806 سے ماخوذ ہے۔