حدیث نمبر: 8808
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إبراهيم بن الحسين الهَمَذاني ومحمد بن غالب بن حَرْب (1)، قالا: حدثنا أبو همّام محمد بن مُحبَّب (2)، حدَّثنا سفيان بن سعيد الثَّوْري، حدثنا جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذَكَرَ الساعةَ احمرَّت وَجْنتاه، واشتدَّ غضبُه، وعَلَا صوتُه، كأنه مُنذِرُ جيشٍ: "صبَّحَكم، مَسَّاكم" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8595 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تو آپ ﷺ کے رخسار مبارک سرخ ہو جاتے، غصے میں شدت آ جاتی اور آواز بلند ہو جاتی، گویا آپ ﷺ کسی لشکر کو خبردار کر رہے ہوں کہ وہ ”تم پر صبح حملہ کرنے والا ہے یا شام کو حملہ آور ہونے والا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8808
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8808] [ترقيم الشركة 8698] [ترقيم العلميه 8595]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: مهرب، وفي المطبوع إلى: مهران. ومحمد بن غالب هذا هو الحافظ المعروف بتمتام. انظر ترجمته في "سير أعلام النبلاء" 13/ 390 - 391.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "مہرب" اور مطبوعہ میں "مہران" بن گیا تھا۔ یہ محمد بن غالب معروف حافظ ہیں جن کا لقب "تمتام" ہے۔ ان کا ترجمہ "سیر اعلام النبلاء" (13/ 390-391) میں دیکھیں۔
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: حبيب، والتصويب من "إتحاف المهرة" (3132) ومصادر ترجمته.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "حبیب" بن گیا تھا، درستگی "اتحاف المہرۃ" (3132) اور ان کے ترجمے کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(3) إسناده صحيح. جعفر بن محمد هو المعروف بالصادق، وأبوه هو محمد بن علي بن الحسين الهاشمي المعروف بالباقر. وأخرجه أحمد 22/ (14630 و 23/ (14984)، ومسلم (867) (45)، والنسائي (1799)
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: جعفر بن محمد سے مراد معروف "جعفر صادق" ہیں اور ان کے والد محمد بن علی بن الحسین الہاشمی معروف "باقر" ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22/ 14630 اور 23/ 14984)، مسلم (867/ 45) اور نسائی (1799) نے روایت کیا ہے۔
و (5861)، وابن حبان (3062) من طرق عن سفيان الثوري بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له
حوالہ / مصدر: نیز (نسائی: 5861) اور ابن حبان (3062) نے سفیان ثوری سے متعدد طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔ پس حاکم کا اسے (بطورِ مستدرک) ذکر کرنا...
ذهولٌ منه.
فنی نکتہ / علّت: ...ان کا "ذہول" (بھول/چوک) ہے۔
وأخرجه أحمد 22/ (14334) و (14431)، ومسلم (867) (43) و (44)، وابن ماجه (45)، وابن حبان (10) من طرق عن جعفر بن محمد به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22/ 14334 اور 14431)، مسلم (867/ 43 اور 44)، ابن ماجہ (45) اور ابن حبان (10) نے جعفر بن محمد سے متعدد طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8808 سے ماخوذ ہے۔