حدیث نمبر: 8809
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا بشر بن بَكْر، حدثنا الأوزاعي، حدثني إسماعيل بن عبيد الله (1)، حدثني عبد الرحمن بن غَنْم الأشعَري قال: قال لي أبو الدَّرداء: كيف ترى الناسَ؟ قلت: بخيرٍ، إنَّ دعوتَهم واحدة، وإمامهم واحد، وعدوَّهم شقيّ (2)، وأُعطِياتِهم وأرزاقَهم دارَّةٌ، قال: فكيف إذا تباغَضَت قلوبُهم، وتلاعنت ألسنتُهم، وظهَرَت عداوتُهم، وفَسَدَت ذاتُ بينهم، وضرب بعضُهم رقابَ بعض؟! (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8596 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

عبدالرحمن بن غنم اشعری سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم لوگوں کو کیسا پاتے ہو؟ میں نے عرض کیا: بخیر و عافیت ہیں، ان کی پکار ایک ہے، ان کا امام ایک ہے، ان کا دشمن بدبخت ہے اور ان کے وظائف و رزق کثرت سے جاری ہیں، انہوں نے فرمایا: (اب تو ایسا ہے) لیکن اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض سے بھر جائیں گے، ان کی زبانیں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گی، ان کی دشمنی کھل کر ظاہر ہو جائے گی، ان کے باہمی تعلقات فساد کا شکار ہو جائیں گے اور وہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگیں گے؟!
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8809
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8809] [ترقيم الشركة 8699] [ترقيم العلميه 8596]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: عبد الله مكبرًا، والتصحيح من "تلخيص الذهبي" و "إتحاف المهرة" (16141) ومصادر ترجمته. وهو إسماعيل بن عبيد الله بن أبي المهاجر الدمشقي.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبداللہ" (مکبر) لکھا گیا، درستگی "تلخیص الذہبی" اور "اتحاف المہرۃ" (16141) اور ان کے ترجمے کے مصادر سے کی گئی ہے۔ اور یہ "اسماعیل بن عبیداللہ بن ابی المہاجر الدمشقی" ہیں۔
(2) في "تلخيص الذهبي": منفي.
نوٹ / توضیح: "تلخیص الذہبی" میں یہ لفظ "منفی" (جلا وطن/نفی کیا گیا) ہے۔
(3) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه ابن حذلم في "حديث الأوزاعي" (8) من طريق مسكين بن بكير، عن الأوزاعي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حذلم نے "حدیث الاوزاعی" (8) میں مسکین بن بکیر عن الاوزاعی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8809 سے ماخوذ ہے۔