کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی امت (کی جماعت) کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا
حدثنا أبو محمد المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن فُضَيل، حدثنا أبو مالك الأشجعي، عن أبي الشَّعثاء قال: خَرَجْنا مع أبي مسعود الأنصاري، فقلنا له: اعهَدْ إلينا، فقال: عليكم بتقوى الله ولزومِ جماعةِ محمدٍ ﷺ، فإنَّ الله تعالى لن يجمعَ جماعةَ محمدٍ على ضلالة، وإنَّ دينَ الله واحدٌ، وإياكم والتلوُّنَ في دينِ الله، وعليكم بتقوى الله، واصبِروا حتى يستريحَ بَرٌّ أو يُستراحَ من فاجر (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد كتبناه مسنَدًا من وجهٍ لا يصح على شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8545 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد كتبناه مسنَدًا من وجهٍ لا يصح على شرط هذا الكتاب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8545 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ابو الشعثاء کہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ نکلے تو ہم نے ان سے عرض کیا: ہمیں کوئی وصیت کیجیے، تو انہوں نے فرمایا: تم پر اللہ کا تقویٰ اور محمد ﷺ کی جماعت کے ساتھ وابستگی لازم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ محمد (ﷺ) کی جماعت کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور بے شک اللہ کا دین ایک ہی ہے، اور دینِ الہی میں رنگ بدلنے (تلوّن مزاجی) سے بچو، اور تقویٰ اختیار کرو، اور اس وقت تک صبر کرو جب تک کہ کوئی نیک آدمی (موت کے ذریعے) راحت نہ پا لے یا کسی بدکار سے (اس کی ہلاکت کے ذریعے) راحت نہ مل جائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد المذكِّر، حدثنا الحسين بن داود بن معاذ، حدثنا مَكّيُّ بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابِلٍ، عن قُدَامة بن عبد الله بن عمّار الكِلَابي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "عليكم باتَّقاء اللهِ والجماعةِ، فإنَّ الله لا يجمعُ هذه الأُمةَ على الضَّلالة، وعليكم بالصبر حتى يَستريحَ بَرٌّ أو يُستراحَ من فاجر" (1).
هذا حديث لم نَكتُبْه بهذا الإسناد إلَّا عن هذا الشيخ، والحملُ فيه على الحسين بن داود، فإنه لم يصحَّ عندنا (2) بهذا الإسناد إلّا حديث واحدٌ:
هذا حديث لم نَكتُبْه بهذا الإسناد إلَّا عن هذا الشيخ، والحملُ فيه على الحسين بن داود، فإنه لم يصحَّ عندنا (2) بهذا الإسناد إلّا حديث واحدٌ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم پر اللہ کا تقویٰ اور جماعت کی وابستگی لازم ہے، کیونکہ اللہ اس امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا، اور تم صبر سے کام لو یہاں تک کہ کوئی نیک بندہ (دنیا سے رخصت ہو کر) راحت پا لے یا کسی بدکار سے (اس کے شر کے خاتمے سے) راحت مل جائے۔“
اس حدیث کو ہم نے اسی سند کے ساتھ صرف اسی شیخ سے لکھا ہے، اور اس کا بوجھ حسین بن داؤد پر ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک اس سند کے ساتھ صرف ایک ہی حدیث صحیح ثابت ہے۔
اس حدیث کو ہم نے اسی سند کے ساتھ صرف اسی شیخ سے لکھا ہے، اور اس کا بوجھ حسین بن داؤد پر ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک اس سند کے ساتھ صرف ایک ہی حدیث صحیح ثابت ہے۔
حدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدانَ المروَزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابِلٍ، عن قُدَامة بن عبد الله بن عمَّار الكِلابي: قال رأيت رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحْر، لا ضربَ، ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (3).
هذا حديث له طُرقٌ عن أيمن بن نابل، وقد احتَجَّ الإمام محمد بن إسماعيل البخاريُّ بأيمنَ بن نابلٍ في "الجامع الصحيح".
هذا حديث له طُرقٌ عن أيمن بن نابل، وقد احتَجَّ الإمام محمد بن إسماعيل البخاريُّ بأيمنَ بن نابلٍ في "الجامع الصحيح".
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوم النحر (عید الاضحیٰ کے دن) جمرہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا، وہاں نہ کسی کو مارا پیٹا جا رہا تھا، نہ کسی کو دھکا دے کر ہٹایا جا رہا تھا اور نہ ہی ”راستے سے ہٹ جاؤ، ہٹ جاؤ“ کا شور تھا۔
اس حدیث کے ایمن بن نابل سے کئی طرق منقول ہیں، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی الجامع الصحیح میں ایمن بن نابل سے احتجاج کیا ہے۔
اس حدیث کے ایمن بن نابل سے کئی طرق منقول ہیں، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی الجامع الصحیح میں ایمن بن نابل سے احتجاج کیا ہے۔