المستدرك على الصحيحين
كتاب الفتن والملاحم— فتنوں آزمائشوں کا بیان
إِنَّ اللَّهَ لَنْ يَجْمَعَ جَمَاعَةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ باب: بے شک اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کی امت (کی جماعت) کو کبھی گمراہی پر جمع نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 8758
حدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدانَ المروَزي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّي بن إبراهيم، حدثنا أيمن بن نابِلٍ، عن قُدَامة بن عبد الله بن عمَّار الكِلابي: قال رأيت رسولَ الله ﷺ يرمي الجَمْرةَ يومَ النَّحْر، لا ضربَ، ولا طَرْدَ، ولا إليكَ إليكَ (3).
هذا حديث له طُرقٌ عن أيمن بن نابل، وقد احتَجَّ الإمام محمد بن إسماعيل البخاريُّ بأيمنَ بن نابلٍ في "الجامع الصحيح".
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یوم النحر (عید الاضحیٰ کے دن) جمرہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا، وہاں نہ کسی کو مارا پیٹا جا رہا تھا، نہ کسی کو دھکا دے کر ہٹایا جا رہا تھا اور نہ ہی ”راستے سے ہٹ جاؤ، ہٹ جاؤ“ کا شور تھا۔
اس حدیث کے ایمن بن نابل سے کئی طرق منقول ہیں، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی الجامع الصحیح میں ایمن بن نابل سے احتجاج کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن من أجل أيمن بن نابل. وقد سلف برقم (1730).
درجۂ حدیث: ایمن بن نابل کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ اور یہ نمبر (1730) پر گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: ایمن بن نابل کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔ اور یہ نمبر (1730) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8758 سے ماخوذ ہے۔