کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول کا بیان
أخبرني الحسن بن حليم (3) المروزي، حدثنا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هُبيرة، حدثنا حمَّاد بن زيد، عن أيوب السَّختِياني وعلي بن زيد بن جُدْعان، عن أبي نَضْرة قال: أتينا عثمان بن أبي العاص يوم الجمعة لنعارضَ مُصحَفَنا بمُصحَفِه، فلما حَضَرَت الجمعةُ أَمرنا فاغتسلنا وتَطيَّبْنا ورُحْنا إلى المسجد، فجلسنا إلى رجل يحدِّث، ثم جاء عثمانُ بن أبي العاص فتحوَّلْنا إليه، فقال عثمان: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "يكونُ للمسلمين ثلاثةُ أمصارٍ: مصرٌ بمُلتقى البحرين، ومصرٌ بالجزيرة (1)، ومصرٌ بالشام، فيَفزَعُ الناسُ ثلاثَ فَزَعاتٍ، فيخرجُ الدَّجّالُ في أعراض (2) جيشٍ، فيَهزِمُ مَن قِبَل المشرق، فأوَّلُ (3) مصرٍ يَرِدُه المصرُ الذي بمُلتقى البحرين، فيصير أهلُها ثلاثَ فِرَقٍ: فِرقةٌ تقيمُ وتقول: نُشَامُّه (4) وننظر ما هو، وفرقةٌ تَلحَق بالأعراب، وفرقةٌ تلحق بالمِصر الذي يليهم (5)، ثم يأتي الشام، فينحازُ المسلمون إلى عَقَبَةِ أَفِيقَ، فيبعثون بسَرْح لهم فيصابُ سَرْحُهم، فيشتدُّ ذلك عليهم، وتصيبُهم مَجَاعَةٌ شديدةٌ وجَهْد، حتى إنَّ أحدهم ليُحرقُ (6) وَتَرَ قوسه فيأكلُه، فبينما هم كذلك إذ ناداهم منادٍ من السَّحَر: يا أيها الناس، أتاكم الغَوْثُ، فيقول بعضُهم لبعض: إنَّ هذا لصوتُ رجل شَبْعانَ، فينزل عيسى ابن مريم ﵇ عند صلاة الفجر، فيقول له إمام (7) الناس: تقدَّم يا رُوحَ الله فصلِّ بنا [فيقول: إنكم معشر هذه الأُمَّة أمراءُ بعضُكم على بعضٍ، تَقدَّم أنت فصلِّ بنا] (8) فيتقدَّمُ فيصلِّي بهم، فإذا انصرف أَخَذَ عيسى صلوات الله عليه حَرْبتَه نحوَ الدَّجّال، فإذا رآه ذابَ كما يَذُوبُ الرَّصَاصُ، فتقعُ حَرْبَتُه بين ثَنْدُوَتِه فيقتلُه، ثم ينهزمُ أصحابُه، فليس شيءٌ يومئذٍ يُجِنُّ منهم أَحدًا، حتى إنَّ الحَجَرَ (1) يقول: يا مؤمنُ، هذا كافرٌ فاقتُله، والحَجَرَ يقول: هذا كافرٌ فاقتُله (2) " (3).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم بذكر أيوب السَّختياني، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8473 - أبو هبيرة واه
حافظ طلحہ بابر
ابو نضرہ سے روایت ہے کہ ہم جمعہ کے دن سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے مصحف کا ان کے مصحف سے موازنہ کرنے کے لیے حاضر ہوئے، پھر جب نمازِ جمعہ کا وقت ہوا تو ہم غسل کر کے اور خوشبو لگا کر مسجد پہنچ گئے، وہاں سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسلمانوں کے تین مراکز ہوں گے: ایک دو سمندروں کے ملاپ کی جگہ پر، ایک جزیرہ میں اور ایک شام میں، پھر لوگ تین بار گھبراہٹ کا شکار ہوں گے، اور دجال ایک بڑے لشکر کے ساتھ نکلے گا اور مشرق کی جانب والوں کو شکست دے گا، پس جس پہلے مرکز پر وہ پہنچے گا وہ وہی ہے جو دو سمندروں کے ملاپ پر واقع ہے، اس کے باشندے تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک گروہ وہیں رہ کر اسے قریب سے پرکھنے کا ارادہ کرے گا، ایک گروہ دیہاتیوں سے جا ملے گا اور ایک گروہ اپنے سے اگلے مرکز کی طرف چلا جائے گا، پھر وہ شام آئے گا تو مسلمان عقبہ افیق کی طرف سمٹ جائیں گے، وہ اپنے مویشی چرنے بھیجیں گے تو وہ ہلاک ہو جائیں گے، یہ ان پر بہت سخت وقت ہوگا اور انہیں ایسی شدید بھوک اور تکلیف پہنچے گی کہ ان میں سے کوئی اپنی کمان کی تانت جلا کر کھائے گا، وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ سحر کے وقت ایک پکارنے والا آواز دے گا: اے لوگو! تمہارے لیے مدد آ گئی ہے، وہ آپس میں کہیں گے کہ یہ تو کسی آسودہ شخص کی آواز ہے، پھر عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نمازِ فجر کے وقت نازل ہوں گے، تو لوگوں کا امام ان سے کہے گا: اے روح اللہ! آگے تشریف لائیے اور ہمیں نماز پڑھائیے، تو وہ جواب دیں گے: «إِنَّكُمْ مَعْشَرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أُمَرَاءُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ، تَقدَّمْ أَنْتَ فَصَلِّ بِنَا» ”تم اس امت کے لوگ ایک دوسرے پر حکمران ہو، لہذا آپ ہی آگے بڑھیں اور ہمیں نماز پڑھائیں“، پس وہ امام آگے بڑھ کر انہیں نماز پڑھائے گا، جب وہ فارغ ہوں گے تو عیسیٰ علیہ السلام اپنا نیزہ لے کر دجال کا رخ کریں گے، جب وہ آپ کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلنے لگے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے، عیسیٰ علیہ السلام اپنا نیزہ اس کے سینے پر مار کر اسے قتل کر دیں گے، پھر اس کے لشکر کو شکست ہوگی اور اس دن کوئی چیز ان میں سے کسی کو پناہ نہیں دے گی یہاں تک کہ پتھر بول اٹھے گا: اے مومن! یہ کافر ہے اسے قتل کر دو، اور پتھر کہے گا: یہ کافر ہے اسے قتل کر دو۔“
یہ حدیث ایوب سختیانی کے ذکر کے ساتھ امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8682
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وأما ذكر أيوب السختياني في هذا الإسناد فهو من تخليط سعيد بن هبيرة، فإنه ليس بالقوي كما قال أبو حاتم الرازي، واتهمه ابن حبان بالوضع، ووهّاه الذهبي في "تلخيصه"» [ترقيم الرساله 8682] [ترقيم الشركة 8575] [ترقيم العلميه 8473]
وقد حَدَّثَناه مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن إسحاق وإسحاق بن الحسن الحَرْبيّان؛ قالوا: أخبرنا عفَّانُ بن مُسلِم، حدثنا حماد بن زيد، عن علي بن زيد بن جدعان، عن أبي نَضْرة قال: أَمَّنَا عثمانُ بن أبي العاص؛ ثم ذكر الحديث مثله سواء، ولم يَذكُر (4) أيوب، والله أعلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8474 - هذا محفوظ
حافظ طلحہ بابر
ابو نضرہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر انہوں نے بعینہٖ یہی حدیث بیان کی مگر اس میں ایوب کا تذکرہ نہیں کیا۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8683
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 8683] [ترقيم الشركة 8576] [ترقيم العلميه 8474]