أخبرناه أحمد بن كامل القاضي، حدثنا محمد بن سعد بن الحسن العوفي، حدثنا عثمان بن عمر بن فارس، أخبرنا عبد الحميد بن جعفر، عن أبي جعفر محمد بن علي بن الحسين، عن رافع بن بشر السُّلمي، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "تخرجُ نارٌ من حِبْسِ سَيَلٍ تسير بسير بطيئةٍ (1)، تكمُنُ بالليل وتسير بالنهار، تَغدُو وتَرُوح، يقال: غَدَتِ النار أيها الناس فاغدُوا، قالتِ النار أيها الناس فقِيلُوا، راحتِ النارُ أيها الناس فرُوحُوا، مَن أدرَكَتْه أَكَلَتْه" (2). وقد رَوَى عن النبي ﷺ، في ذكر أشراط الساعة خروج النار من أرض الحجاز: عاصم بن عديٍّ الأنصاري، وأبو هريرة، وأبو ذر الغفاري وقد تقدَّم ذكره (3). أما حديث عاصم بن عَدِيّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8367 - رافع بن بشر السلمي مجهول
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8367 - رافع بن بشر السلمي مجهول
حافظ طلحہ بابر
رافع بن بشر السلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” «حِبْسِ سَيَلٍ» (حبسِ سیل) سے ایک آگ نکلے گی جو بہت دھیمی رفتار سے چلے گی، وہ رات کو رک جائے گی اور دن کو چلے گی، وہ صبح و شام سفر کرے گی، پکارا جائے گا: ”اے لوگو! آگ چل پڑی ہے تم بھی کوچ کرو، آگ نے قیام کیا ہے تم بھی قیلولہ کرو، آگ شام کو چل پڑی ہے تم بھی شام کو روانہ ہو جاؤ؛ جو اس کی زد میں آ گیا وہ اسے کھا جائے گا۔“
فحدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا إسماعيل بن أبي أويس، حدثنا عَباية بن بكر بن أبي ليلى المُزَني، عن إبراهيم بن إسماعيل بن مُجمِّع، عن عبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حزم، عن أبيه قال: حدثني أبو البَدَّاح بن عاصم الأنصاري، عن أبيه أنه قال: سألنا رسول الله ﷺ حِدْثانَ ما قَدِمَ، فقال: "أين حِبْسُ سَيَل؟ " قلنا: لا ندري، فمرَّ بي رجلٌ من بني سُلَيم، فقلتُ: من أين جئتَ؟ فقال: من حِبْس سَيَل، فدعوتُ بنعلي، فانحدرت إلى رسول الله ﷺ فقلت: يا رسول الله، إِنَّكَ سألتنا عن حِبْس سَيَل، وإنَّه لم يكن لنا به عِلمٌ، وإنه مرَّ بي هذا الرجل فسألته، فزَعَمَ أنَّ به أهله، فسأله رسول الله ﷺ فقال: "أين أهلك؟ " قال: بحبس سيل، فقال: "أخِّرْ أهلك، فإنه يُوشِكُ أن تخرج منه نار تضيء أعناق الإبل ببصرى" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8368 - منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8368 - منكر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالبداح بن عاصم انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ ﷺ سے سوال کیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ” «حِبْسُ سَيَل» (حبسِ سیل) کہاں ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ہمیں نہیں معلوم۔ پھر میرے پاس سے قبیلہ بنو سلیم کا ایک شخص گزرا، میں نے پوچھا: ”کہاں سے آئے ہو؟“ اس نے کہا: حبسِ سیل سے۔ میں نے فوراً اپنی جوتیاں منگوائیں اور رسول اللہ ﷺ کی طرف دوڑا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہم سے حبسِ سیل کے بارے میں پوچھا تھا اور ہمیں معلوم نہ تھا، اب یہ شخص میرے پاس سے گزرا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے اہل خانہ وہیں رہتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”تمہارے گھر والے کہاں ہیں؟“ اس نے کہا: حبسِ سیل میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو وہاں سے ہٹا لو، کیونکہ عنقریب وہاں سے ایک آگ نکلے گی جو بصرہ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
فأخبرناه أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحجاج بن رشدين، حدثني أبي، عن أبيه، عن جده، عن عقيل بن خالد، عن ابن شهاب، أن سعيد بن المسيب أخبره، أنَّ أبا هريرة أخبره، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا تقومُ الساعةُ حتى تخرج نارٌ بأرض الحجاز، تضيء منها أعناق الإبل ببُصرَى" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8369 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8369 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سرزمینِ حجاز سے ایسی آگ نہ نکلے جس سے بصرہ میں اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں۔“
أخبرني محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبَّاد، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين قال: قيل لسعد بن أبي وقاص: ألا تقاتل، فإنك من أهل الشُّورى، وأنت أحقُّ بهذا الأمر من غيرك؟ فقال: لا أقاتلُ حتى تأتوني بسيف له عَينانِ ولسانٌ وشَفَتانِ يعرف الكافر من المؤمن، قد جاهدتُ وأنا أعرفُ الجهاد، ولا أبخَعُ بنفسي إن كان رجلٌ خيرًا (1) منِّي (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8370 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8370 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ”کیا آپ جنگ نہیں کریں گے؟ آپ تو شوریٰ کے ممبروں میں سے ہیں اور آپ اس معاملے (خلافت) کے دوسروں سے زیادہ حقدار ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں تب تک نہیں لڑوں گا جب تک تم میرے پاس ایسی تلوار نہ لاؤ جس کی دو آنکھیں، ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں جو کافر کو مؤمن سے پہچان سکے؛ میں نے جہاد کیا ہے اور میں جہاد کو جانتا ہوں، اور میں اپنی جان کو ہلاک نہیں کروں گا اگر کوئی دوسرا مجھ سے بہتر ہوا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔