کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: یہ امت اس وقت تک شریعت پر قائم رہے گی جب تک ان میں تین چیزیں ظاہر نہ ہوں
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن زَبَّان (3) بن فائد، عن سهل بن معاذ بن أنس، عن أبيه، أن رسول الله ﷺ قال: "لا تزال الأمة على شريعة ما لم تَظهَرْ فيهم ثلاث: ما لم يُقبَضُ فيهم العلم، ويَكثُرُ فيهم وَلَدُ الخَبَثْ، ويَظْهَرْ فيهم السَّقَّارون" قالوا: وما السَّقَّارون يا رسول الله؟ قال: "بَشَرٌ يكونون في آخر الزمان، تكون تحيَّتهم بينهم إذا تَلاقَوُا التَّلاعُنَ" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8371 - منكر
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8371 - منكر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ امت اس وقت تک (درست) شریعت پر قائم رہے گی جب تک ان میں تین چیزیں ظاہر نہ ہو جائیں: جب تک ان میں سے علم اٹھا نہ لیا جائے، جب تک ان میں بدکاری کی اولاد (حرام زادے) کثرت سے نہ ہو جائیں، اور جب تک ان میں «السَّقَّارون» ظاہر نہ ہو جائیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ «السَّقَّارون» کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ آخری زمانے میں ہونے والے وہ لوگ ہوں گے جن کی آپس میں ملاقات کے وقت ان کی باہمی تحیہ (سلام) ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا ہوگا (یعنی سلام کی بجائے لعنت بھیجیں گے)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن سعيد بن أبي بردة، عن أبيه، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ: "أمتي أمةٌ مرحومةٌ، لا عذابَ عليها في الآخرة، جَعَلَ الله عذابها في الدنيا القتلَ والزلازلَ والفتنَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8372 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8372 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری یہ امت ایک ایسی امت ہے جس پر (خاص) رحم کیا گیا ہے، اس پر آخرت میں کوئی عذاب نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ نے اس کا عذاب دنیا ہی میں قتل و غارت، زلزلوں اور فتنوں کی صورت میں رکھ دیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔