کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: معاملات میں صرف سختی اور دین میں صرف دوری (پیچھے ہٹنا) ہی بڑھتی جائے گی
حدثنا عيسى بن زيد بن عيسى بن عبد الله بن مسلم بن عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب، حدثنا يونس بن عبد الأعلى الصَّدَفي، حدثنا محمد بن إدريس الشافعي، أخبرنا محمد بن خالد الجندي، عن أبان بن صالح، عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يزداد الأمرُ إلَّا شِدّة، ولا الدِّينُ إلَّا إدبارًا، ولا الناسُ إِلَّا شُحًّا، ولا تقومُ الساعةُ إلَّا على شرار الناس، ولا مهدي إلَّا عيسى ابن مريم" (1).
هذا حديث يُعَدُّ في أفراد الشافعي ﵁، وليس كذلك، فقد حدَّث به غَيرُه:
هذا حديث يُعَدُّ في أفراد الشافعي ﵁، وليس كذلك، فقد حدَّث به غَيرُه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاملات میں صرف سختی بڑھے گی، دین میں صرف دوری (پیٹھ پھیرنا) بڑھے گی، لوگوں میں صرف بخل اور لالچ بڑھے گا، اور قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی، اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے سوا کوئی (کامل) مہدی نہیں ہے۔“
یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کے تفردات میں شمار کی جاتی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ ان کے علاوہ دیگر نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کے تفردات میں شمار کی جاتی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ ان کے علاوہ دیگر نے بھی اسے روایت کیا ہے۔
حدثني أبو أحمد عبد الرحمن بن عبد الله بن يَزْدادَ الرازي المذكِّر ببُخارى من أصل كتابه العتيق، حدثنا أبو محمد عبد الرحمن بن أحمد بن محمد بن الحجاج بن رِشْدِين بن سعد المَهْري بمصر، حدثني أبو سعيد المفضَّل بن محمد الجندي، حدثنا صامت بن معاذ، حدثنا يحيى بن السكن، حدثنا محمد بن خالد الجندي، عن أبان بن صالح، عن الحسن، عن أنس، عن النبي ﷺ قال: "لا يزدادُ الأمرُ إلَّا شدّةً، ولا الناسُ إلّا شُحًّا، ولا تقوم الساعة إلا على شرار الناس، ولا مهديَّ إلّا عيسى ابن مريم (2) " (3). قال صامت بن معاذ: عَدَلتُ إلى الجَنَد مسيرة يومين من صنعاء، فدخلتُ على مُحدِّث لهم فطلبت هذا الحديث، فوجدتُه عنده عن محمد بن خالد الجندي، عن أبان بن أبي عياش عن الحسن، عن النبي ﷺ مثله (1). وقد رُوِيَ بعضُ هذا المتن عن عبد العزيز بن صُهَيب، عن أنس بن مالك، عن رسول الله ﷺ. قال: أما حديث عبد العزيز عن أنس بن مالك:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”معاملات میں صرف سختی بڑھے گی، اور لوگوں میں صرف بخل بڑھے گا، اور قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی، اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے سوا کوئی (کامل) مہدی نہیں ہے۔“
صامت بن معاذ کہتے ہیں: میں صنعاء سے دو دن کی مسافت طے کر کے جَنَد پہنچا، وہاں کے ایک محدث کے پاس گیا اور اس حدیث کو طلب کیا، تو میں نے اسے محمد بن خالد الجندی، عن ابان بن ابی عیاش، عن الحسن کی سند سے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح پایا۔
صامت بن معاذ کہتے ہیں: میں صنعاء سے دو دن کی مسافت طے کر کے جَنَد پہنچا، وہاں کے ایک محدث کے پاس گیا اور اس حدیث کو طلب کیا، تو میں نے اسے محمد بن خالد الجندی، عن ابان بن ابی عیاش، عن الحسن کی سند سے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح پایا۔
فحدّثناه الحُسين (2) بن علي التميمي ﵀، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا علي بن الحسين الدرهمي، حدثنا مُبَارك أبو سُحَيم، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن أنس بن مالك، عن النبي ﷺ أنه قال: "لن يزداد الزمانُ إلَّا شدّة، ولا يزداد الناسُ إِلَّا شُحًا، ولا تقومُ الساعةُ إلَّا على شرار الناس" (3). فذكرتُ ما انتهى إليَّ من عِلَّة هذا الحديث تعجُّبًا لا محتجًا به في المستدرك على الشيخين ﵄، فإنّ أولى من هذا الحديث ذكره في هذا الموضع، حديث سفيان الثَّوْري وشُعبة وزائدة وغيرهم من أئمة المسلمين، عن عاصم بن بهدلة، عن زِرِّ بن حُبَيش، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ أنه قال: "لا تذهب الأيام والليالي حتى يملك رجلٌ من أهل بيتي، يُواطئ اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي، فيملأُ الأرضَ قِسْطًا وعَدْلًا كما ملئت جَوْرًا وظُلمًا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8364 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8364 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”زمانے میں صرف سختی ہی بڑھتی جائے گی، اور لوگوں میں صرف بخل ہی بڑھے گا، اور قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔“
میں نے اس حدیث کی جو علت مجھ تک پہنچی ہے اسے تعجب کے طور پر ذکر کیا ہے، نہ کہ شیخین پر اس سے استدراک کیا ہے، کیونکہ اس مقام پر اس حدیث سے زیادہ ذکر کرنے کے لائق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دن اور رات تب تک ختم نہیں ہوں گے جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص حکمران نہ بن جائے، اس کا نام میرے نام کے مطابق اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہوگا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے ویسے ہی بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔“
میں نے اس حدیث کی جو علت مجھ تک پہنچی ہے اسے تعجب کے طور پر ذکر کیا ہے، نہ کہ شیخین پر اس سے استدراک کیا ہے، کیونکہ اس مقام پر اس حدیث سے زیادہ ذکر کرنے کے لائق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دن اور رات تب تک ختم نہیں ہوں گے جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص حکمران نہ بن جائے، اس کا نام میرے نام کے مطابق اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہوگا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے ویسے ہی بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔“