حدیث نمبر: 8567
حدثنا عيسى بن زيد بن عيسى بن عبد الله بن مسلم بن عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب، حدثنا يونس بن عبد الأعلى الصَّدَفي، حدثنا محمد بن إدريس الشافعي، أخبرنا محمد بن خالد الجندي، عن أبان بن صالح، عن الحسن، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يزداد الأمرُ إلَّا شِدّة، ولا الدِّينُ إلَّا إدبارًا، ولا الناسُ إِلَّا شُحًّا، ولا تقومُ الساعةُ إلَّا على شرار الناس، ولا مهدي إلَّا عيسى ابن مريم" (1).
هذا حديث يُعَدُّ في أفراد الشافعي ﵁، وليس كذلك، فقد حدَّث به غَيرُه:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاملات میں صرف سختی بڑھے گی، دین میں صرف دوری (پیٹھ پھیرنا) بڑھے گی، لوگوں میں صرف بخل اور لالچ بڑھے گا، اور قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی، اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے سوا کوئی (کامل) مہدی نہیں ہے۔“
یہ حدیث امام شافعی رحمہ اللہ کے تفردات میں شمار کی جاتی ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ ان کے علاوہ دیگر نے بھی اسے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8567
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره دون قوله: "ولا مهديَّ إلا عيسى ابن مريم" فمنكر
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: "ولا مهديَّ إلا عيسى ابن مريم" فمنكر، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن خالد الجندي، وقد حكم الذهبي في ترجمة الجندي هذا من كتابه "ميزان الاعتدال" على قوله: "ولا مهدي … إلخ" بالنكارة» [ترقيم الرساله 8567] [ترقيم الشركة 8465]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره دون قوله: "ولا مهديَّ إلا عيسى ابن مريم" فمنكر، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن خالد الجندي، وقد حكم الذهبي في ترجمة الجندي هذا من كتابه "ميزان الاعتدال" على قوله: "ولا مهدي … إلخ" بالنكارة.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، سوائے اس ٹکڑے کے: "ولا مهديَّ إلا عيسى ابن مريم" (اور عیسیٰ بن مریم کے سوا کوئی مہدی نہیں)، کیونکہ یہ ٹکڑا منکر ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ سند محمد بن خالد الجندی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام ذہبی نے اپنی کتاب "میزان الاعتدال" میں الجندی کے ترجمہ میں اس کے قول "ولا مہدی... الخ" پر منکر ہونے کا حکم لگایا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (4039) عن يونس بن عبد الأعلى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4039) نے یونس بن عبد الاعلیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له دون قوله: "ولا مهدي … إلخ" حديث أبي أمامة السالف برقم (8563).
متابعات و شواہد: اور اس ٹکڑے (ولا مہدی... الخ) کے علاوہ باقی حدیث کے لیے ابو امامہ کی وہ حدیث شاہد ہے جو پیچھے نمبر (8563) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8567 سے ماخوذ ہے۔