کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ کا ارشاد کہ تم مدینہ کو اس کی بہترین حالت میں چھوڑ جاؤ گے
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرُو، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يونس بن يوسف بن حِمَاس، عن عمّه، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال: "لتُترَكَنَّ المدينةُ على خيرِ ما كانت، العَوَافِي تأكلها؛ الطَّيرُ والسِّباعُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يخرجاه. فليعلَمْ طالبُ هذا العلم أنَّ حذيفة بن اليَمَان صاحب سر رسول الله ﷺ، وكان يقول: كان الناسُ يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسأله عن الشرِّ مخافة أن أقع فيه (1)، وقد يَخفَى على الأعلم مجلسٌ من العلم لبعض (2) عِلَّة ذلك الجنس، وقد خَفِيَ على حذيفة الذي يُخرِج أهل المدينة من المدينة وعَلِمَه غيره (3). وقد اتفق الشيخان ﵄ على حديث شُعبة، عن عَدِيّ بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد، عن حذيفة أنه قال: أخبرني رسول الله ﷺ بما هو كائنٌ إلى يوم القيامة، فما منه شيء إلا وقد سألته عنه، إلا أني لم أسأله ما يُخرِجُ أهل المدينة من المدينة (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8311 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مدینہ منورہ کو اس کی بہترین حالت میں (ویران) چھوڑ دیا جائے گا، اور «العَوَافِي» یعنی پرندے اور درندے اس کے پھل کھائیں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ طلبہِ علم کو معلوم ہونا چاہیے کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے راز دان تھے اور وہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا تاکہ اس میں واقع نہ ہو جاؤں۔ بسا اوقات کسی علمی سبب کی بنا پر کوئی خاص مجلسِ علم کسی بڑے عالم سے بھی اوجھل رہ سکتی ہے، چنانچہ وہ بات جس کی وجہ سے اہل مدینہ وہاں سے نکل جائیں گے، وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے تو مخفی رہی مگر ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے جان لیا۔ شیخین کا سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی شعبہ کی روایت پر اتفاق ہے جس میں انہوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے قیامت تک ہونے والے تمام واقعات کی خبر دے دی تھی، ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس کے بارے میں میں نے آپ ﷺ سے سوال نہ کیا ہو، سوائے اس کے کہ میں نے یہ نہیں پوچھا کہ اہل مدینہ کو مدینہ سے کون سی چیز نکالے گی۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8516
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين في المتابغت والشواهد، رجاله ثقات معروفون غير عمِّ ابن حِماس فإننا لم نقف له على ترجمة، لكن الراوي عنه» [ترقيم الرساله 8516] [ترقيم الشركة 8413] [ترقيم العلميه 8311]
حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا الحسن بن مُكرَم، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا المسعودي، عن عبد الملك بن عُمير، عن جابر بن سمرة، عن نافع ابن عُتبة قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "تقاتلون جزيرة العرب فيفتحهم الله، ثم تقاتلون الرُّومَ فيَفتَحُهم الله، ثم تقاتلون فارس فيفتحهم الله، ثم تقاتلون الدَّجال فيفتحُه الله" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8312 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم جزیرہ نما عرب کے ساتھ جنگ کرو گے تو اللہ اسے فتح فرما دے گا، پھر تم اہل روم سے جنگ کرو گے تو اللہ انہیں بھی فتح کروا دے گا، پھر تم اہل فارس سے لڑو گے تو اللہ ان پر بھی فتح عطا فرمائے گا، پھر تم دجال سے جنگ کرو گے تو اللہ اسے بھی مغلوب (فتح) فرما دے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8517
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، عثمان بن عمر» [ترقيم الرساله 8517] [ترقيم الشركة 8414] [ترقيم العلميه 8312]