المستدرك على الصحيحين
كتاب الرقى والتمائم— دم اور تعویذات کے احکام
التَّمَائِمُ مَا عُلِّقَ قَبْلَ نُزُولِ الْبَلَاءِ باب: تعویذ وہ ہے جو بلا نازل ہونے سے پہلے لٹکایا جائے
حدیث نمبر: 8496
أخبرني الحسن بن حَليم (1) المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني طلحة بن أبي سعيد، عن بُكير بن عبد الله بن الأشجّ، عن القاسم بن محمد، عن عائشة أنها قالت: التمائمُ ما عُلِّق قبل نزول البلاء، وما عُلِّق بعد نزول البلاء فليس بتَمِيمة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8291 - صحيححافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تمیمہ (ناجائز تعویذ) وہ ہے جو بلا نازل ہونے سے پہلے (اسے ٹالنے کے لیے) لٹکایا جائے، اور جو بلا نازل ہونے کے بعد (بطور علاج) لٹکایا جائے، وہ تمیمہ نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حكيم.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "حکیم" لکھا گیا ہے (جو کہ غلط ہے)۔
(2) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (7696).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ اور یہ روایت نمبر (7696) کے تحت گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "حکیم" لکھا گیا ہے (جو کہ غلط ہے)۔
(2) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (7696).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ اور یہ روایت نمبر (7696) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8496 سے ماخوذ ہے۔