حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي ببغداد، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلمي، حَدَّثَنَا سليمان بن عبد الرحمن (1) الدِّمشقي، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، حَدَّثَنَا يزيد بن سعيد بن ذي عَصْوان، عن يزيد بن عطاء، عن معاذ بن سعد السَّكْسَكي، عن جُنادة بن أبي أُميّة، عن عُبادة بن الصّامت قال: بينما نحن مع رسول الله ﷺ وقوفٌ إذ أقبلَ رجل فقال: يا رسولَ الله، ما مُدَّهُ رَخاءِ أمّتك؟ قال: فسكتَ عنه رسولُ الله ﷺ حتَّى سأله ثلاثَ مرات، ثم وَلَّى الرَّجلُ، فقال رسول الله ﷺ: "عليّ بالرجل" فنُوديَ، فأقبل الرجل، فقال له رسول الله ﷺ: "لقد سألتَني عن شيءٍ ما سألَني عنه أحدٌ من أمَّتي، رَخَاءُ أمَّتي مئة سنة، مدَّةُ رَخاءِ أُمَّتي مئةُ سنة، مدَّةُ رخاءِ أمَّتي مئةُ سنة"، قال: فقال: يا رسول الله، فهل لتلك من أَمَارةٍ أو آيةٍ أو علامة؟ قال: "نَعَم، القَذْفُ والخَسْفُ والرَّجُفُ، وإرسالُ الشياطينِ المُلجَمةِ عن الناس" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8293 - إسناده مظلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی امت کی خوشحالی کی مدت کتنی ہے؟ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ اس نے تین بار سوال کیا، پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر جانے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کو میرے پاس لاؤ“، اسے پکارا گیا تو وہ واپس آیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا ہے جو میری امت میں سے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھی، میری امت کی خوشحالی کی مدت سو سال ہے، میری امت کی خوشحالی کی مدت سو سال ہے، میری امت کی خوشحالی کی مدت سو سال ہے“، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس کی کوئی نشانی یا علامت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، پتھروں کی بارش «القَذْفُ»، زمین میں دھنسنا «الخَسْفُ»، زلزلے «الرَّجُفُ» اور لوگوں میں لگام دیے گئے شیاطین کا چھوڑا جانا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8498
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لجهالة معاذ بن سعد السكسكي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة معاذ بن سعد السكسكي، فقد انفرد بالرواية عنه يزيد بن عطاء أبو عطاء السكسكي، ويزيد هذا ليس بذاك المعروف أيضًا، فقد روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "ثقاته" كما ذكر فيه معاذًا السكسكي أيضًا، ويزيد بن سعيد بن ذي عصوان ذكره ابن حبان في الثقات أيضًا وقال: ربما أخطأ» [ترقيم الرساله 8498] [ترقيم الشركة 8395] [ترقيم العلميه 8293]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، أخبرنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة (1) الأصبهاني، أخبرنا أبو محمد الحسين بن حفص الهَمْداني، حَدَّثَنَا سفيان بن سعيد الثَّوْري، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي عمرو السَّيْباني، عن ابن الدَّيلَمي، عن حُذَيفة بن اليَمَان قال: إني لأعلمُ أهلَ دِينَين من أمَّة محمد ﷺ في النار، قوم يقولون: إن كان أوّليَّتُنا ضُلالًا، يقولون: ما بالُ خمس صلواتٍ في اليوم والليلة؟ إنّما هما صلاتان: العصرُ والفجرُ، وقوم يقولون: إنما الإيمانُ كلامٌ وإن زَنَى وإن قَتَل (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8294 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں محمد ﷺ کی امت کے ایسے دو دین دار گروہوں کو جانتا ہوں جو آگ میں ہوں گے، ایک وہ جو یہ کہیں گے کہ اگر ہمارے اسلاف گمراہ تھے (تو کیا ہوا؟) اور یہ کہیں گے کہ دن رات میں پانچ نمازوں کی کیا ضرورت ہے؟ بس دو ہی نمازیں ہیں: عصر اور فجر، اور دوسرا وہ گروہ جو کہتا ہے کہ ایمان صرف زبانی کلام کا نام ہے اگرچہ انسان زنا کرے اور قتل کرے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الفتن والملاحم / حدیث: 8499
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لتفرد محمد بن إبراهيم الأصبهاني بوصله
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لتفرد محمد بن إبراهيم الأصبهاني بوصله، وهو مجهول كما سبق، وباقي رجال الإسناد في الجملة ثقات، وقد روي هذا الخبر من غير وجه عن الأوزاعي عن يحيى السيباني عن حذيفة مرسلًا، فإنَّ السيباني لم يدرك حذيفة» [ترقيم الرساله 8499] [ترقيم الشركة 8396] [ترقيم العلميه 8294]