کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: پھوڑے اور زخم کے لیے دم (رقیہ) کا تذکرہ
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه والشيخ أبو الحسن علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا بِشْر بن موسى الأَسدي، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، حَدَّثَنَا عبد ربِّه بن سعيد، عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ كان إذا اشتَكى الإنسانُ الشيءَ منه، أو كانت به قَرْحةٌ أو جُرْح، قال النَّبِيّ ﷺ باصبَعِه هكذا - ووضع أبو بكر (1) سَبَّابتَه بالأرض ثم رَفَعها -: "باسم الله، تُرْبةُ أرضِنا، برِيقَةِ بعضِنا، يُشفَى سَقيمُنا بإذن ربِّنا" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8266 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب کسی انسان کو کوئی تکلیف ہوتی یا اسے کوئی پھوڑا یا زخم ہوتا، تو نبی کریم ﷺ اپنی انگلی سے اس طرح اشارہ فرماتے —اور ابوبکر (راوی) نے اپنی شہادت کی انگلی زمین پر رکھی پھر اسے اٹھایا— اور فرمایا: «بِاسْمِ اللَّهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا» ”اللہ کے نام کے ساتھ، یہ ہماری زمین کی مٹی ہے، ہم میں سے کسی کے تھوک کے ساتھ، تاکہ ہمارے پروردگار کے حکم سے ہمارا بیمار شفاء پا جائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 8471
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8471] [ترقيم الشركة 8368] [ترقيم العلميه 8266]
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أَسِيد بن عاصم، حَدَّثَنَا الحسين بن حفص، عن سفيان، حدثني مَعبَد بن خالد، قال: سمعت عبد الله بن شدَّاد يحدِّث عن عائشة قالت: أَمَرَني رسولُ الله ﷺ أن أَسترقيَ من العَيْن (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8267 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں نظرِ بد کے علاج کے لیے دم کرواؤں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 8472
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل الحسين بن حفص، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8472] [ترقيم الشركة 8369] [ترقيم العلميه 8267]