المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
السَّفَرْجَلَةُ تُجِمُّ الْفُؤَادَ باب: سفرجل (بہی) دل کو سکون پہنچاتا ہے
حدیث نمبر: 8470
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجَوْهري، حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمد القُرشي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن حمَّاد بن عِمران بن موسى بن طلحة، حَدَّثَنَا طَلْحة بن يحيى بن طلحة، عن أبيه، طلحة بن عُبيد الله قال: دُخلت على رسول الله ﷺ وفي يده سَفَرْجَلةٌ، فألقاها إليَّ وقال: "دُونَكَها أبا محمدٍ، فإنها تُجِمُّ الفؤادَ" (3). [كتاب الرقى والتمائم] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8265 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک بہی ”سفرجلہ“ تھا، آپ ﷺ نے وہ میری طرف پھینک دیا اور فرمایا: ”اے ابومحمد! اسے لے لو، کیونکہ یہ دل کو راحت دیتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حديث محتمل للتحسين إن شاء الله، وهذا إسناد ضعيف جدًّا من أجل عبد الرحمن بن حماد الطَّلْحي. وقد سلف بيانه برقم (7769).
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ یہ حدیث تحسین کا احتمال رکھتی ہے، لیکن یہ سند عبدالرحمٰن بن حماد الطلحی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ اس کا بیان نمبر (7769) پر گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ یہ حدیث تحسین کا احتمال رکھتی ہے، لیکن یہ سند عبدالرحمٰن بن حماد الطلحی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے۔ اس کا بیان نمبر (7769) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8470 سے ماخوذ ہے۔