حدیث نمبر: 8473
أخبرني أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، حَدَّثَنَا زيد بن الحُباب. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن جعفر القَطِيعي، قالا: حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنْبل، حدثني أَبي، حَدَّثَنَا زيد بن الحُبَاب، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن عُمير بن هانئ، أنه سمع جُنادةَ بن أبي أُمية الكِنْديّ يقول: سمعت عُبادةَ بن الصامت يحدِّث عن رسول الله ﷺ: "أنَّ جبريلَ ﵇ أتاه وهو يُوعَكُ فقال: باسم الله أَرْقِيك من كلِّ شيءٍ يُؤذِيك، من كلِّ حَسَدٍ وحاسدٍ وكلِّ عمًى (1)، واسمُ الله يَشفِيك" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8268 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بخار یا تکلیف کی حالت میں تھے تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور عرض کی: «بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ كُلِّ حَسَدٍ وَحَاسِدٍ وَكُلِّ عَمًى، وَاسْمُ اللَّهِ يَشْفِيكَ» ”اللہ کے نام کے ساتھ میں آپ پر دم کرتا ہوں ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت دے، ہر حسد اور حاسد سے، اور ہر نظرِ بد سے، اور اللہ کا نام آپ کو شفاء عطا فرمائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقى والتمائم / حدیث: 8473
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان» [ترقيم الرساله 8473] [ترقيم الشركة 8370] [ترقيم العلميه 8268]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هكذا في (ز) و (ب)، وضبّب عليها في (ز)، وفي "تلخيص الذهبي": وكل غم، وسقط قوله: "وكل عمى" من (ك) و (م). والذي في "مسند أحمد": وكل عين، وهو كذلك في سائر مصادر التخريج، وهو الصواب.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں ایسا ہی ہے، اور (ز) میں اس پر نشان (ضبّب) لگایا گیا ہے۔ "تلخیص الذہبی" میں "وکل غم" ہے۔ اور نسخہ (ک) اور (م) سے "وکل عمی" کے الفاظ ساقط ہیں۔
اہم نکتہ: "مسند احمد" میں "وکل عین" ہے، اور دیگر مصادرِ تخریج میں بھی ایسا ہی ہے، اور یہی درست ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور عبدالرحمٰن بن ثابت بن ثوبان کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 37/ (22760).
متابعات و شواہد: یہ "مسند احمد" 37/ (22760) میں موجود ہے۔
وأخرجه ابن حبان (953) و (2968) من طريق عثمان بن أبي شيبة، عن زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اسے ابن حبان (953) اور (2968) نے عثمان بن ابی شیبہ کے واسطے سے زید بن الحباب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22761)، وابن ماجه (3527) من طريقين عن ابن ثوبان، به.
متابعات و شواہد: اسے احمد (22761) اور ابن ماجہ (3527) نے ابن ثوبان سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22759)، والنسائي (10776) من طريق عاصم الأحول، عن سلمان - رجل من أهل الشام - عن جنادة بن أبي أمية به.
متابعات و شواہد: اسے احمد (22759) اور نسائی (10776) نے عاصم الاحول کے طریق سے، انہوں نے سلمان (اہل شام کے ایک آدمی) سے، انہوں نے جنادہ بن ابی امیہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له حديثًا عائشة وأبي سعيد الخدري عند مسلم (2185) و (2186). وحديث أبي هريرة عند أحمد 15/ (9757) وابن ماجه (3524) وغيرهما.
متابعات و شواہد: اس کے لیے عائشہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کی حدیث بطورِ شاہد ہے جو مسلم (2185) اور (2186) میں ہے۔ نیز ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو مسند احمد 15/ (9757) اور ابن ماجہ (3524) وغیرہ میں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8473 سے ماخوذ ہے۔