أخبرني عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حَدَّثَنَا عُمر (1) بن حفص السَّدُوسي، حَدَّثَنَا عاصم بن علي، حَدَّثَنَا ابن أبي ذِئْب، عن سعيد بن خالد، عن سعيد بن المسيّب، عن عبد الرحمن بن عثمان التَّيْمي قال: ذكر طبيبٌ (2) الدواءَ عند رسول الله ﷺ، فذكر الضِّفْدعَ يكون في الدّواء، فنهى النَّبِيُّ ﷺ عن قتله (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد أدّت الضَّرورةُ إلى إخراج حديث الليث بن أبي سُلَيم ﵀ ولم يَمضِ فيما تقدم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8261 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد أدّت الضَّرورةُ إلى إخراج حديث الليث بن أبي سُلَيم ﵀ ولم يَمضِ فيما تقدم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8261 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک طبیب نے دوا کا ذکر کیا اور اس میں مینڈک کو شامل کرنے کی بات کی تو نبی کریم ﷺ نے اسے قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن يونس القُرشي، حَدَّثَنَا بشر بن حُجْر السامِيّ (4)، حَدَّثَنَا فُضيل بن عِيَاض، عن ليث، عن مجاهد، عن ابن عباس، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "ما من أحدٍ إِلَّا وفي رأسه عُروقٌ من الجُذَامِ تَنعَرُ، فإذا هاجَ سلَّط الله عليه الزُّكامَ، فلا تَداوَوْا له" (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8262 - كأنه موضوع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8262 - كأنه موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر انسان کے سر میں جذام کی کچھ رگیں ہوتی ہیں جو حرکت کرتی ہیں، جب وہ جوش مارتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر زکام (نزلہ) کو مسلط کر دیتا ہے، لہٰذا تم زکام کا علاج نہ کیا کرو۔“